Main Icon

باب : جنبی سے اختلاط کا باب اور کیا چیزیں جنبی کو جائز ہیں - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 467

پاکی کی کتاب - جلد 1

حدیث مبارکہ

وَعَنِ المُهَاجِرِ بْنِ قُنْفُذٍ: أَنَّهُ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَبُولُ فَسَلَّمَ عَلَيْهِ، فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْهِ حَتّٰى تَوَضَّأَ، ثمَّ اعْتَذَرَ إِلَيْهِ وَقَالَ: "إِنِّيْ كَرِهْتُ أَنْ أَذْكُرَ اللّٰهَ إِلَّا عَلٰى طُهْرٍ". رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ، وَرَوَى النَّسَائِيُّ إِلٰى قَوْلِهٖ: حَتّٰى تَوَضَّأَ، وَقَالَ: فَلَمَّا تَوَضَّأَ رَدَّ عَلَيْهِ.

وعن المهاجر بن قنفذ: أنه أتى النبي صلى الله عليه وسلم وهو يبول فسلم عليه، فلم يرد عليه حتى توضأ، ثم اعتذر إليه وقال: "إني كرهت أن أذكر الله إلا على طهر". رواه أبو داود، وروى النسائي إلى قوله: حتى توضأ، وقال: فلما توضأ رد عليه.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت مہاجرابن قنفذ سے ۱؎کہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے جب کہ آپ پیشاب کر رہے تھے ۲؎انہوں نے سلام کیا آپ نے جواب نہ دیا حتی کہ وضو کرلیا۔پھر ان سے معذرت کی اور فرمایا کہ میں نے یہ پسند نہ کیا کہ بغیر پاکی کے الله کا ذکرکروں ۳؎(ابوداؤد)اور نسائی نے"حَتّٰی تَوَضَّا"تک روایت کی اور فرمایا کہ جب وضو کرلیا تو اس کا جواب دیا۔

شرح حدیث

۱∞؎آپ کا نام خلف ابن عمیر ہے،لقب مہاجر کیونکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ تم سچے مہاجر ہو آپ قریشی ہیں،تیمی ہیں،فتح مکہ کے دن ایمان لائے،بصرہ میں قیام رہا،وہاں ہی وفات ہوئی۔
۲
؎پیشاب یاپاخانہ کرنے والے پرسلام کرنا منع ہے اور اس کے سلام کا جواب دینا واجب نہیں،لیکن اگر قضائے حاجت کے بعد جواب دے دیا جائے تو جائز ہے اس حدیث میں اسی کا ذکر ہے۔چونکہ ان صحابی کو یہ مسئلہ معلوم نہ تھا اسی لئے انہوں نے اس حالت میں سلام کیا۔
۳
؎اس کی پوری بحث اوپر گزر گئی۔یہاں ہے کہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کرکے جواب دیا کیونکہ یہاں سلام کرنے والے کہیں جا نہ رہے تھے،بلکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ہی تھے۔اس لئے جواب کی جلدی نہ تھی،وضو کیا،پھر جواب دیا وہاں سلام والاجارہا تھا،لہذا فرق ہوگیا۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 1 , حدیث نمبر: 467