Main Icon

باب : جنبی سے اختلاط کا باب اور کیا چیزیں جنبی کو جائز ہیں - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 465

پاکی کی کتاب - جلد 1

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ أَبِيْ بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ: أَنَّ فِي الْكِتَابِ الَّذِيْ كتَبَهُ رَسُوْلُ اللهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- لِعَمْرِو بْنِ حَزْمٍ: "أَنْ لَا يَمَسَّ الْقُرْآنَ إِلَّا طَاهِرٌ". رَوَاهُ مَالِكٌ وَالدَّارَقُطْنِيُّ.

وعن عبد الله بن أبي بكر بن محمد بن عمرو بن حزم: أن في الكتاب الذي كتبه رسول الله -صلى الله عليه وسلم- لعمرو بن حزم: "أن لا يمس القرآن إلا طاهر". رواه مالك والدارقطني.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عبد الله ابن ابی بکر ابن محمدابن عمرو ابن حزم سے ۱؎کہ وہ خط جو رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے ابن حزم کو لکھا ۲؎اس میں یہ تھا کہ قرآن کو صرف پاک آدمی ہی چھوئے ۳؎(مالک دار قطنی)

شرح حدیث

۱∞؎آپ خود،آپ کے والد اوردادا تمام تابعین میں سے ہیں،آپ مدینۂ منورہ کے بڑے عالم،متقی،تابعی ہیں۔انس بن مالک اورعروہ ابن زبیروغیرہ صحابہ سے احادیث لیں،ستر سال عمر پائی،۱۳۵ ھمیں وفات ہوئی۔آپ کے دادا محمدابن عمرو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات شریف میں ۱۰ ھمیں مقام نجران میں پیدا ہوئے،۵۳ سال عمر پائی،حرہ کی جنگ میں شہید ہوئے ۶۳ھمیں۔
۲
؎حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمرو ابن حزم انصاری کو یمن کے ایک علاقہ کا حاکم بنا کر بھیجا تب انہیں ایک فرمان نامہ لکھ کر عطا فرمایا جس میں فرائض،سنتیں،صدقات وغیرہ تحریر تھے۔اس کا یہاں ذکر ہے۔
۳
؎یعنی اس فرمان نامہ میں دوسرے احکام کے علاوہ یہ حکم بھی تھا کہ قرآن کریم صاف پاک آدمی ہی چھوئے نہ تو اسے بے وضو ہاتھ لگائے،نہ جنبی،نہ حائضہ ونفساء۔خیال رہے کہ بلاحائل قرآن چھونا ان تمام کو حرام ہے،ہاں جزداں یاکسی کپڑے کے ساتھ چھوناجائزہے جیسے کہ کتب فقہ میں مصرح ہے۔قرآن کریم فرماتا ہے:"لَّا یَمَسُّہٗۤ اِلَّا الْمُطَہَّرُوۡنَ

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 1 , حدیث نمبر: 465