Main Icon

باب : جنبی سے اختلاط کا باب اور کیا چیزیں جنبی کو جائز ہیں - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 472

پاکی کی کتاب - جلد 1

حدیث مبارکہ

وَعَنْ حُمَيْدٍ الْحِمْيَرِيِّ قَالَ: لَقِيْتُ رَجُلًا صَحِبَ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْبَعَ سِنِيْنَ كَمَا صَحِبَهٗ أَبُو هُرَيْرَةَ، قَالَ: نَهٰى رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تَغْتَسِلَ الْمَرْأَةُ بِفَضْلِ الرَّجُلِ، أَوْ يَغْتَسِلَ الرَّجُلُ بِفَضْلِ الْمَرْأَةِ. زَادَ مُسَدَّدٌ: وَلْيَغْتَرِفَا جَمِيْعًا، رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ، وَزَادَ أَحْمَدُ فِيْ أَوَّلِهٖ: نَهٰى أَنْ يَمْتَشِطَ أَحَدُنَا كُلَّ يَوْمٍ أَوْ يَبُوْلَ فِيْ مُغْتَسَلٍ.

وعن حميد الحميري قال: لقيت رجلا صحب النبي صلى الله عليه وسلم أربع سنين كما صحبه أبو هريرة، قال: نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم أن تغتسل المرأة بفضل الرجل، أو يغتسل الرجل بفضل المرأة. زاد مسدد: وليغترفا جميعا، رواه أبو داود والنسائي، وزاد أحمد في أوله: نهى أن يمتشط أحدنا كل يوم أو يبول في مغتسل.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حمید حمیری سے ۱؎فرماتے ہیں کہ میں اس شخص سے ملا جوحضرت ابوہریرہ کی طرح نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت میں چار سال رہے۲؎فرمایا منع کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے کہ عورت مرد کے بچے ہوئے سے غسل کرے یا مرد عورت کے بچے ہوئے سے غسل کرے۳؎مسدد نے یہ بڑھایا۴؎کہ دونوں ایک ساتھ چلو لیں ۵؎اسے ابوداؤد،نسائی نے روایت کیااور احمدنے اس کے اول میں یہ بھی زیادتی کی کہ حضور نے منع فرمایا اس سے کہ ہم میں سے کوئی روزانہ گنگھی کرے یا غسل خانہ میں پیشاب کرے۶؎

شرح حدیث

۱∞؎آپ حمید ابن عبدالرحمن ہیں،بصرہ کے باشندے،قبیلہحَمِیرسے ہیں،جلیل القدر تابعی ہیں اپنے زمانہ میں بڑے عالم تھے۔
۲
؎وہ صحابی یا حکم ابن عمروہیں یاعبد الله ابن سرجس اوریاعبد الله ابن مغفل،چونکہ تمام صحابہ عادل ہیں اس لئے صحابی کا نام معلوم نہ ہونا مضر نہیں۔
۳
؎یہ ممانعت بھی تنزیہی ہے یعنی ایسا کرنا بہتر نہیں اگر کرے تو حرج بھی نہیں۔
۴
؎آپ کا نام مسدد(دال کے فتح)سے ابن مسرھد ہے،تبع تابعین میں ہیں،بصرہ کے باشندے ہیں، ۱۲۸ھمیں وفات ہوئی۔
۵
؎یعنی اگرعورت و مرد ایک برتن سے وضو یا غسل کریں تو آگے پیچھے چلو نہ لیں بلکہ ایک ساتھ لیں تاکہ ان میں سے کوئی دوسرے کے فضلہ سے طہارت نہ کرے اگرچہ آئندہ چلوؤں میں فضلے سے ہی طہارت ہوگی مگر یہ معاف ہے۔
۶
؎غسل خانہ میں پیشاب کرنا وسوسہ کی بیماری پیدا کرتا ہے خصوصًا جب کہ پانی نکلنے کی کوئی نالی وغیرہ نہ ہو اور روزانہ بال کا ڑھنے مانگ نکالنے میں غفلت پیدا ہوتی ہے۔یہ کام کبھی کبھی کرنا سنت ہے،بال پراگندہ رکھنا بھی ٹھیک نہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 1 , حدیث نمبر: 472