Main Icon

باب : جنبی سے اختلاط کا باب اور کیا چیزیں جنبی کو جائز ہیں - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 460

پاکی کی کتاب - جلد 1

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَلِيٍّ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- يَخْرُجُ مِنَ الْخَلَاءِ، فَيُقْرِئُنَا الْقُرآنَ، وَيَأْكُلُ مَعَنَا اللَّحْمَ، وَلَمْ يَكُنْ يَحْجُبُهٗ أَوْ يَحْجُزُهٗ عَنِ الْقُرآنِ شَيْءٌ لَيْسَ الْجَنَابَةَ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ، وَرَوَى ابْنُ مَاجَهْ نَحْوَهٗ.

وعن علي قال: كان النبي -صلى الله عليه وسلم- يخرج من الخلاء، فيقرئنا القرآن، ويأكل معنا اللحم، ولم يكن يحجبه أو يحجزه عن القرآن شيء ليس الجنابة. رواه أبو داود والنسائي، وروى ابن ماجه نحوه.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت علی سے فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم پاخانہ سے آتے تو ہمیں قرآن پڑھاتے اورہمارے ساتھ گوشت کھاتے تھے ۱؎جنابت کے سواحضورکو قرآن سے کوئی چیز نہ روکتی تھی ۲؎(ابوداؤد،نسائی)ابن ماجہ نے اس کی مثل روایت کی

شرح حدیث

۱∞؎یعنی پاخانہ سے تشریف لاکر بغیروضوکئے اور ہاتھ دھوئے کلی کئے قران کی تلاوت بھی فرمالیتے اور کھانا بھی کھالیتے۔معلوم ہوا کہ بغیر وضو تلاوت بھی جائزہے اورکھانا پینابھی درست،اگرچہ مستحب یہ ہے کہ ہاتھ دھو کرکھایا جائے۔یہ عمل شریف بیان جواز کے لئے ہے۔
۲
؎یعنی حدث اکبرہی تلاوت قرآن سے مانع ہے۔حدث اصغریعنی بغیر وضو قرآن چھونا ممنوع ہے،تلاوت جائز ہے۔خیال رہے کہ جنبی کو تلاوت قرآن ممنوع ہے لیکن قرآنی دعائیں بہ نیت دعا پڑھ سکتے ہیں۔اس کی تفصیل کتب فقہ میں دیکھو۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 1 , حدیث نمبر: 460