Main Icon

باب : جنبی سے اختلاط کا باب اور کیا چیزیں جنبی کو جائز ہیں - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 464

پاکی کی کتاب - جلد 1

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "ثَلَاثَةٌ لَا تَقْرَبُهُمُ الْمَلَائِكَةُ: جِيْفَةُ كَافِرِ، وَالْمُتَضَمِّخ ُ بِالْخَلُوقِ، وَالْجُنُبِ إِلَّا أَن يَتَوَضَّأَ". رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ.

وعن عمار بن ياسر قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: "ثلاثة لا تقربهم الملائكة: جيفة كافر، والمتضمخ بالخلوق، والجنب إلا أن يتوضأ". رواه أبو داود.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عمار ابن یاسر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ تین شخص ہیں جن کے قریب بھی فرشتے نہیں آتے کافر مردار خلوق سے لتھڑاہوا اورجنبی مگر یہ کہ وضو کرے ۱؎(ابوداؤد)

شرح حدیث

۱ ∞ ؎ یہاں بھی فرشتوں سے مراد رحمت کے فرشتے ہیں۔ کافر مردار سے کافر کا جسم مراد ہے زندہ ہو یا مردہ، یعنی کفار کے پاس رحمت کے فرشتے نہیں آتے اسی لئے کفار کے مجمع میں نماز نہ پڑھے، کفارکو نماز استسقاء کے لیے ساتھ نہ لے جائے۔ خلوق اس خوشبو کا نام ہے جس میں زعفران وغیرہ ہوتے ہیں اس کا رنگ ظاہر ہوتا ہے۔ مردوں کو صرف ایسی خوشبو لگانی چاہیئے جو خوشبو دے رنگ نہ دے یہاں مردوں کے لئے ممانعت مقصود ہے، عورتیں اس حکم سے علیحدہ ہیں۔ (مرقاۃ وغیرہ)یونہی جنبی سے مراد وہ جنبی ہے جو ناپاک رہنے کا عادی ہو، نماز کے اوقات میں گندا رہے۔ لہذا حدیث بالکل واضح ہے۔ دوسری احادیث سے متعارض نہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ رات میں جنبی ہونے والا اگر یوں ہی بغیر وضو کئے سو جائے تو رحمت کے فرشتے نہ آئیں گے، وضو کر کے سونا چاہیئے

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 1 , حدیث نمبر: 464