Main Icon

باب : جنبی سے اختلاط کا باب اور کیا چیزیں جنبی کو جائز ہیں - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 469

پاکی کی کتاب - جلد 1

حدیث مبارکہ

وَعَنْ شُعْبَةَ قَالَ: إِنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُ كَانَ إِذَا اغْتَسَلَ مِنَ الْجَنَابَةِ يُفْرِغُ بِيَدِهِ الْيُمْنَى عَلٰى يَدِهِ الْيُسْرٰى سَبْعَ مِرَارٍ، ثُمَّ يَغْسِلُ فَرْجَهٗ، فَنَسِيَ مَرَّةً كَمْ أَفْرَغَ فَسَأَلَنِيْ، فَقُلْتُ: لَا أَدْرِيْ، فَقَالَ: لَا أُمَّ لَكَ، وَمَا يَمْنَعُكَ أَنْ تَدْرِيَ؟ ثُمَّ يَتَوَضَّأُ وُضُوءَهٗ لِلصَّلَاةِ، ثُمَّ يُفِيْضُ عَلٰى جِلْدِهِ الْمَاءَ، ثُمَّ يَقُولُ: هٰكَذَا كَانَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَطَهَّرُ. رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ.

وعن شعبة قال: إن ابن عباس رضي الله عنه كان إذا اغتسل من الجنابة يفرغ بيده اليمنى على يده اليسرى سبع مرار، ثم يغسل فرجه، فنسي مرة كم أفرغ فسألني، فقلت: لا أدري، فقال: لا أم لك، وما يمنعك أن تدري؟ ثم يتوضأ وضوءه للصلاة، ثم يفيض على جلده الماء، ثم يقول: هكذا كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يتطهر. رواه أبو داود.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت شعبہ سے ۱؎فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ جب ناپاکی سے غسل کرلیتے تو داہنے ہاتھ سے بائیں ہاتھ پر سات بارپانی ڈالتے ۲؎پھر استنجاءکرتے ایک دفعہ بھول گئے کہ کتنی بار پانی ڈالا ہے مجھ سے پوچھا تو میں نے کہا کہ مجھےنہیں معلوم فرمایا تمہاری ماں نہ رہے تمہیں کس چیزنے جاننے سے روکا ۳؎پھرنماز کا سا وضو کرتے پھر اپنےجسم پر پانی بہاتے پھر فرماتے کہ رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم یوں ہی طہارت فرماتے تھے۴؎(ابوداؤد)

شرح حدیث

۱∞؎آپ شعبہ ابن دینارہیں،سیدناعبد الله ابن عباس کے آزادکردہ غلام ہیں۔امام نسائی فرماتے ہیں کہ شعبہ ضعیف ہیں،دیگرمحدثین ان کی توثیق کرتے ہیں۔
۲
؎کیونکہ ہاتھ میں نجاست لگی ہوئی تھی اورشروع اسلام میں نجاست سات بار دھوئی جاتی تھی،پھر سات کا حکم منسوخ ہوگیا،استحباب اب بھی باقی ہے۔(ازمرقات)لہذا یہ حدیث ان احادیث کے خلاف نہیں جن میں تین بار ہاتھ دھونے کا ذکر ہے۔ہوسکتا ہے کہ آپ یہ عمل کبھی کرتے ہوں نہ کہ ہمیشہ۔
۳
؎ماں نہ رہے پیار میں بھی بولتے ہیں اورعتاب میں بھی۔یہاں دونوں احتمال ہیں۔مولیٰ اور استاد کو حق ہے کہ بلاوجہ بھی عتاب کردے۔اس حدیث سے معلوم ہواکہ شاگرد کو اپنے استاد کے ہرحال کا خیال رکھنا چاہیئے تاکہ بوقت ضرورت استاد کوبھی بتاسکے،اورلوگوں تک بھی پہنچاسکے۔یہاں ہاتھ دھونے کی گنتی مراد ہے۔
۴
؎کبھی کبھی یا سات کا حکم منسوخ ہونے سے پہلے یا اس وقت جب کہ نجاست سخت ہوکر بغیرسات بارکے نہ چھوٹے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 1 , حدیث نمبر: 469