Main Icon

باب: بنجر زمین کا آباد کرنا اور پانی دینا - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2992

تجارتوں کا بیان - جلد 4

حدیث مبارکہ

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: أَنَّ الصَّعْبَ بْنَ جَثَّامَةَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: لَا حِمٰى إِلَّا لِلّٰهِ وَرَسُولِهٖ . رَوَاهُ البُخَارِيُّ

وعن ابن عباس: أن الصعب بن جثامة قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: لا حمى إلا لله ورسوله . رواه البخاري

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابن عباس سے کہ حضرت صعب بن جثامہ نے فرمایا ۱؎کہ میں نے رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم کو فرماتے سنا کہ چراگاہیںاللّٰهاور رسول ہی کی ہیں ۲؎(بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎جثامہجیم کے فتح،ثکے شد و فتح سے،حضرت صعب ابن جثامہ لیثی ہیں،صحابی ہیں،ودان اور ابواء میں رہتے تھے،خلافت صدیقی میں وفات پائی۔
۲
؎رؤسائے عرب اپنے جانوروں کے لیے خاص چراگاہیں مقرر کرلیتے تھے جن میں انکے سواء کوئی اپنے جانور نہ چراسکتا تھا حضور انور صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے اس سے منع فرمایا۔اس فرمان عالی کے دو مطلب ہوسکتے ہیں:ایک یہ کہ چراگاہیں بنانے کا حق صرفاللّٰهرسول ہی کو ہے دوسرے کو نہیں تو حضور انور اپنے جانوروں کے لیے چراگاہیں مقرر کرسکتے ہیں لیکن آپ نے کبھی مقرر فرمائیں نہیں۔دوسرے یہ کہ صرف جہاد کے جانوروں ہی کے لیے چراگاہیں مقرر ہوسکتی ہیں اپنے نجی جانوروں کے لیے نہیں ہوسکتی۔تیسرے یہ کہ کوئی شخصاللّٰهرسول کی بغیر اجازت چراگاہ نہ بنائے کہ چراگاہ بنانے،اجازت دینے کا حقاللّٰهرسول ہی کو ہے۔خیال رہے کہاللّٰهکا ذکربرکت کے لیے ہے،چراگاہ کی اجازت صرف حضور صلی اللّٰہ علیہ و سلم سے حاصل کی جائے گی۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2992