Main Icon

باب: بنجر زمین کا آباد کرنا اور پانی دینا - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2995

تجارتوں کا بیان - جلد 4

حدیث مبارکہ

وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " ثَلَاثَةٌ لَا يُكَلِّمُهُمُ اللّٰهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَلَا يَنْظُرُ إِلَيْهِمْ رَجُلٌ حَلَفَ عَلٰى سِلْعَةٍ لَقَدْ أُعْطِيَ بِهَا أَكْثَرَ مِمَّا أُعْطِيَ وَهُوَ كَاذِبٌ وَرَجُلٌ حَلَفَ عَلٰى يَمِينٍ كَاذِبَةٍ بَعْدَ الْعَصْرِ لِيَقْتَطِعَ بِهَا مَالَ رَجُلٍ مُسْلِمٍ وَرَجُلٌ مَنَعَ فَضْلَ مَاءٍ فَيَقُولُ اللّٰهُ: الْيَوْمَ أَمْنَعُكَ فَضْلِي كَمَا مَنَعْتَ فَضْلَ مَاءٍ لَمْ تَعْمَلْ يَدَاكَ (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ) وَذُكِرَ حَدِيثُ جَابِرٍ فِي "بَابِ الْمَنْهِيِّ عَنْهَا مِنَ الْبُيُوعِ".

وعنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " ثلاثة لا يكلمهم الله يوم القيامة ولا ينظر إليهم رجل حلف على سلعة لقد أعطي بها أكثر مما أعطي وهو كاذب ورجل حلف على يمين كاذبة بعد العصر ليقتطع بها مال رجل مسلم ورجل منع فضل ماء فيقول الله: اليوم أمنعك فضلي كما منعت فضل ماء لم تعمل يداك (متفق عليه) وذكر حديث جابر في "باب المنهي عنها من البيوع".

حدیث ترجمہ

روایت ہے ان ہی سے فرماتے ہیں فرمایا رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم نے تین شخص وہ ہیں جن سے قیامت کے دناللّٰهنہ کلام فرمائے گا اور نہ انہیں نظر رحمت سے دیکھے ۱؎ایک وہ شخص جو کسی سامان پر قسم کھائے کہ مجھے پہلے اس سے زیادہ قیمت ملتی رہی حالانکہ ہو وہ جھوٹا ۲؎اور ایک وہ شخص جو عصر کے بعد جھوٹی قسم کھائے تاکہ اس قسم سے مسلمان آدمی کا مال مارے ۳؎اور ایک وہ شخص جو بچا ہوا پانی روکے۴؎اللّٰهتعالٰی فرمائے گا کہ آج میں تجھ سے اپنا فضل روکتا ہوں جیسے تو نے بچا ہوا پانی روکا تھا جسے تیرے ہاتھوں نے نہ بنایا تھا ۵؎(مسلم،بخاری) اور حضرت جابر کی حدیث ممنوع تجارتوں کے باب میں ذکر کردی گئی ہے۔

شرح حدیث

۱∞؎کلام سے کلام محبت مراد ہے اور نظر سے نظر رحمت ورنہ غضب کا کلام اور قہر کی نظر تو کفار پر بھی ہوگی۔
۲
؎یہ بیماری عام دکانداروں کو ہےکہ جب کوئی خریدار ان کے مال کی قیمت لگاتا ہے تو کہتے ہیں رب کی قسم ابھی تم سے پہلے ایک گاہک اس سے زیادہ پیسے دیتا رہا میں نے نہ دی اور سچے ایسے ہوتے ہیں کہ جب گاہک چل دیتا ہے تو پکارتے ہیں اچھا اتنے میں ہی لے جا۔خیال رہے کہ جھوٹ بولنے سے تقدیر نہیں بدل جاتی بلکہ تجربہ یہ ہے کہ سچا دکاندار خوب کماتا ہے۔
۳
؎اس کی صورت یہ ہے کہ حاکم کے ہاں ایک دعویٰ دائر ہوا،مدعی کے پاس گواہ نہ تھے مگر تھا وہ سچامدعی علیہ سے بعد عصر قسم کھانے کے لیے کہا گیا،یہ جھوٹی قسم کھا گیا اور اس کا حق مار لیا۔بعد عصر کی قید اس لیے لگائی کہ وہ وقت دن رات کے فرشتوں کے اجتماع کا ہے،دن کے جانے اوررات کے آنے کی گھڑیاں ہیں،اس وقت کفار عرب بھی جھوٹی قسم نہ کھاتے تھے،یہ بے غیرت مسلمان ہوکر اس گناہ پر دلیری کرلیتا ہے۔
۴
؎یعنی گزرگاہ عام پر غیرمملوک پانی اس کی حاجت سے زائد ہو،پھر وہ مسافروں اور جانوروں کو نہ پینے دےلہذا اس حکم سے وہ لوگ خارج ہیں جو پانی بیچ کر اپنا گزارہ کرتے ہیں کہ وہ پانی ان کے اپنے کنوئیں کا ہوتا ہے یا دور سے لایا ہوا جیساکہ عرب کی منزلوں میں دیکھا جاتا ہے۔
۵
؎اس جملہ میں بھی اشارہ اس طرف ہے کہ اپنا کھودا ہوا کنواں یا اپنا جمع کیا ہوا پانی اپنی ملکیت ہے جسے فروخت کرنا بلاکراہت جائز ہے۔یدسے مراد کوشش اور محنت ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2995