Main Icon

باب: بنجر زمین کا آباد کرنا اور پانی دینا - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2997

تجارتوں کا بیان - جلد 4

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ: أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَقْطَعَ لِلزُّبَيْرِ نَخِيلًارَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ

وعن أسماء بنت أبي بكر: أن رسول الله صلى الله عليه وسلم أقطع للزبير نخيلارواه أبو داود

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت اسماء بنت ابی بکر سے کہ رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ وسلم نے حضرت زبیر کو کھجور کے درخت بطور جاگیر بخشے ۱؎(ابو داؤد)

شرح حدیث

۱∞؎اقطاعکے معنی ہیں کسی کو قطعہ زمین بخشنا یا تو بالکل مالک کرکے یا وہاں رہنے سہنے کی اجازت دینا یہاں پہلے معنی مراد ہیں اورنخیلسے مراد نخلستان ہے یعنی درخت کھجور وغیرہ زمین بطور جاگیر عطا فرمائے،یہ باغ یا تو اس خمس سے تھا جو حضور انور کی ملک تھا یا زمین موات تھی حضرت زبیر نے اسے آباد کیا۔(لمعات،مرقات)

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2997