Main Icon

باب: بنجر زمین کا آباد کرنا اور پانی دینا - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3001

تجارتوں کا بیان - جلد 4

حدیث مبارکہ

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْمُسْلِمُونَ شُرَكَاءُ فِي ثَلَاثٍ: الْمَاءِ وَالْكَلَأِ وَالنَّارِ ". رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَه

وعن ابن عباس قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " المسلمون شركاء في ثلاث: الماء والكلأ والنار ". رواه أبو داود وابن ماجه

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں فرمایا رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم نے کہ مسلمان تین چیزوں میں شریک ہیں پانی، گھاس اور آگ میں ۱؎(ابوداؤد،ابن ماجہ)

شرح حدیث

۱∞؎یہاں پانی سے وہ پانی مراد ہے جو نہ کسی کی محنت سے حاصل ہوا ہو،نہ کسی کے برتن میں بھرا ہوجیسے جنگل، بارش،سیلاب کا پانی مگر اپنے نہر گھڑے،اپنی نالی کا پانی اس سے خارج ہے۔ایسے ہی گھاس سے وہ گھاس مراد ہے جو غیر مملوک زمین میں کھڑی ہو اپنی مملوک زمین کی گھاس،ایسے ہی وہ گھاس جو کاٹ کر اپنے گھر میں رکھ لی مملوک ہے۔آگ سے مراد یہ ہے کہ کسی شخص کو اپنے چراغ کی روشنی میں بیٹھنے آگ تاپنے سے نہیں روک سکتے،یوں ہی اپنے شمع سے دوسرے کوشمع جلانے سے منع نہیں کرسکتے،بعض نے فرمایا کہ آگ سے مراد چقماق پتھر ہے لہذا ہر شخص اپنی آگ سے چنگاری لینے سے منع کرسکتا ہے کہ یہ اسی کی ملک ہے اور اس سے آگ کم بھی ہو جاتی ہے۔(مرقات،اشعہ)

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 3001