Main Icon

باب: بنجر زمین کا آباد کرنا اور پانی دینا - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2996

تجارتوں کا بیان - جلد 4

حدیث مبارکہ

عَنِ الْحَسَنِ عَنْ سَمُرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَنْ أَحَاطَ حَائِطًا عَلَى الأَرْضِ فَهُوَ لَهٗ. رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ

عن الحسن عن سمرة عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: من أحاط حائطا على الأرض فهو له. رواه أبو داود

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت حسن سے وہ حضرت سمرہ سے وہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم سے راوی فرماتے ہیں فرمایا جو کسی زمین پر احاطہ بنائے تو وہ زمین اسی کی ہوگی ۱؎(ابوداؤد)

شرح حدیث

۱∞؎یہاںارضسے مراد ہے زمین موات ہے جو نہ کسی کی ملک ہو نہ رفاہ عام کی ہو۔احاطہ سے مراد اپنے یا اپنے جانوروں کے رہنے کے مکان کے لیے احاطہ ہے یعنی جو شخص غیر مملوک زمین میں اپنے مکان یا اصطبل کے لیے دیوار کھینچ لے وہ زمین اس کی ہوگی،یہ ہی مذہب امام احمد کا ہے کہ ان کے ہاں صرف دیوار کھینچ لینا ملکیت کے لیے کافی ہے،دیگر اماموں کے ہاں صرف دیوار کھینچ لینا کافی نہیں احیاء یعنی آباد کرنا ضروری ہے اس لیے وہ حضرات دیوار سے مکان کی دیوار مراد لیتے ہیں اورلہٗسے مراد عارضی ملکیت ہے کہ ایسی زمین میں مکان بنالینے والا جب تک رہے گا زمین حکومت کی ہوگی۔(لمعات،اشعہ،مرقات)

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2996