Main Icon

باب: بنجر زمین کا آباد کرنا اور پانی دینا - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3000

تجارتوں کا بیان - جلد 4

حدیث مبارکہ

وَعَن أَبْيَضَ بْنِ حَمَّالِ الْمَأْرِبِيِّ: أَنَّهٗ وَفَدَ إِلٰى رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَسْتَقْطَعَهُ الْمِلْحَ الَّذِي بِمَأْرِبَ فَأَقْطَعُهٗ إِيَّاهُ فَلَمَّا وَلّٰى قَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللّٰهِ إِنَّمَا أَقْطَعْتَ لَهُ الْمَاءَ الْعِدَّ قَالَ: فَرَجَّعَهٗ مِنْهُ قَالَ: وَسَأَلَهٗ مَاذَا يُحْمٰى مِنَ الأَرَاكِ؟ قَالَ: «مَا لَمْ تَنَلْهُ أَخْفَافُ الْإِبِلِ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَه والدَّارِمِيُّ

وعن أبيض بن حمال المأربي: أنه وفد إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم فأستقطعه الملح الذي بمأرب فأقطعه إياه فلما ولى قال رجل: يا رسول الله إنما أقطعت له الماء العد قال: فرجعه منه قال: وسأله ماذا يحمى من الأراك؟ قال: «ما لم تنله أخفاف الإبل» . رواه الترمذي وابن ماجه والدارمي

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابیض ابن حمال ماربی سے ۱؎کہ وہ بطور نمائندہ رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو انہوں نے حضور سے مارب کے نمک کی کان کی جاگیر مانگی ۲؎حضور نے انہیں وہ جاگیر عطا فرمادی جب وہ چلے گئے تو کسی شخص نے عرض کیا یارسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم آپ نے تو انہیں پانی کا چشمہ جاگیر دے دیا ۳؎فرماتے ہیں تب حضور نے وہ ان سے واپس لے لیا ۴؎راوی فرماتے ہیں کہ انہوں نے حضور سے پوچھا کہ کس قدر پیلو چراگاہ بنائے جاسکتے ہیں فرمایا جہاں تک اونٹوں کے سم نہ پہنچیں ۵؎(ترمذی،ابن ماجہ،دارمی)

شرح حدیث

۱∞؎ان کا نام پہلے اسود تھا،نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے ابیض رکھا،مارب یمن کے علاقہ صنعا کا مشہور شہر ہے جہاں نمک کثرت سے پیدا ہوتا ہے۔
۲
؎یعنی عرض کیا کہ مجھے وہاں کا نمک عنایت فرمادیجئے کہ میں اس کی تجارت کرکے گزر اوقات کروں۔
۳
؎یہ عرض کرنے والے اقرع ابن حابس تمیمی ہیں یا عباس ابن مرداس،آپ نے سمجھا تھا کہ وہاں نمک پہاڑی ہوگا جو بصد دشواری کھودکر نکالا جاتا ہوگا اس لیے وہ بطور جاگیر عنایت فرمادیا،ان صاحب نے عرض کیا کہ وہ تو جھیل ہے جس سے بغیر مشقت نمک بنتا ہے،وہاں پانی کا چشمہ ہے جو کبھی ختم نہیں ہوتا۔عدّع کے کسرہ سے بمعنی مہیا یعنی نفع کے لیے تیار کی ہوئی چیز۔مطلب یہ تھا کہ یہ نمک کا ذخیرہ رفاہ عام کی چیز ہے،ایک کی ملکیت بن جانے سے سب کو تکلیف ہوجائے گی۔
۴
؎اس سے دو مسئلے معلوم ہوئے:ایک یہ کہ بادشاہ اندرونی کانوں کو بطور جاگیر دے سکتا ہے جیسے پہاڑی نمک کا تیل فیروزہ اور گندھک وغیرہ کی کانیں،ظاہری کانیں جیسے پانی کا نمک وغیرہ کسی کو بطور جاگیر نہیں دے سکتا کہ یہ پانی، گھاس وغیرہ کی طرح رفاہ عام کی چیزیں ہیں کہ ایک کی ملکیت میں جانے سے سب کو تکلیف ہوجائے گی۔دوسرے یہ کہ حاکم اپنے فیصلہ کو ردّ بھی کرسکتا ہے اور اس میں ترمیم بھی اور حاکم کے فیصلہ کی اپیل بھی کی جاسکتی ہیں۔
۵
؎یعنی بستی کے آس پاس کی وہ زمینیں جن کی بستی والوں کو ضرورت رہتی ہے اور جہاں تک ان کے جانور چرنے پھرنے آتے ہیں وہاں تک کی زمین موات نہیں اور نہ اسے کوئی آباد کرکے مالک ہوسکتا ہے کہ اس سے سب کو تکلیف ہوجائے گی۔وہ زمینیں جو شہر سے دور ہوں،کسی کی مملوک نہ ہوں،رفاہ عام کی نہ ہوں وہ موات ہیں اور اس کی آباد کاری جائز ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 3000