Main Icon

باب: بنجر زمین کا آباد کرنا اور پانی دینا - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3006

تجارتوں کا بیان - جلد 4

حدیث مبارکہ

وَعَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ: أَنَّهٗ كَانَتْ لَهٗ عَضَدٌ مِنْ نَخْلٍ فِيحَائِطِ رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ وَمَعَ الرَّجُلِ أَهْلُهٗ فَكَانَ سَمُرَةُ يَدْخُلُ عَلَيْهِ فَيَتَأَذّٰى بِهٖ فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ ذٰلِكَ لَهٗ فَطَلَبَ إِلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ليَبِيْعَهُ فَأَبٰى، فَطَلَبَ أَنْ يُنَاقِلَهٗ فَأَبٰى قَالَ: «فَهَبْهُ لَهٗ وَلَكَ كَذَا» أَمْرًا رَغْبَةً فِيهِ فَأَبٰى فَقَالَ: «أَنْتَ مُضَارٌّ» فَقَالَ لِلْأَنْصَارِيِّ: «اذْهَبْ فَاقْطَعْ نَخْلَهٗ» . رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ وَذَكَرَ حَدِيثَ جَابِرٍ: "مَنْ أَحْيٰی أَرْضًا" فِي "بَابِ الْغَصْبِ" بِرِوَايَةِ سَعِيدِ بْنِ زَيْدٍ. وَسَنَذْكُرُ حَدِيثَ أَبِي صِرْمَةَ: «مَنْ ضَارَّ أَضَرَّ اللّٰهُ بِهٖ » فِي « بَابُ مَا يُنْهَى مِنَ التَّهَاجُرِ »

وعن سمرة بن جندب: أنه كانت له عضد من نخل فيحائط رجل من الأنصار ومع الرجل أهله فكان سمرة يدخل عليه فيتأذى به فأتى النبي صلى الله عليه وسلم فذكر ذلك له فطلب إليه النبي صلى الله عليه وسلم ليبيعه فأبى، فطلب أن يناقله فأبى قال: «فهبه له ولك كذا» أمرا رغبة فيه فأبى فقال: «أنت مضار» فقال للأنصاري: «اذهب فاقطع نخله» . رواه أبو داود وذكر حديث جابر: "من أحيی أرضا" في "باب الغصب" برواية سعيد بن زيد. وسنذكر حديث أبي صرمة: «من ضار أضر الله به » في « باب ما ينهى من التهاجر »

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت سمرہ ابن جندب سے کہ ایک انصاری کے باغ میں ان کا ایک کھجور کا دستہ تھا ۱؎مالک باغ کے ساتھ اس کے گھر والے بھی تھے جب حضرت سمرہ باغ میں جاتے تو مالک کو تکلیف ہوتی ۲؎وہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور یہ ماجرا حضور سے عرض کیا نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے سمرہ سے مطالبہ فرمایا کہ سمرہ وہ بیچ دیں۳؎انہوں نے انکار کیا تو فرمایا تبادلہ کرلیں وہ انکاری ہوئے فرمایا اسے ہبہ کردو تو تمہیں ایسا ثواب ہوگا اس کی انہیں رغبت دی مگر انہوں نے انکار کیا ۴؎تب فرمایا درپے ایذا ہو انصاری کو حکم دیا جاؤ ان کا درخت کاٹ دو ۵؎(ابوداؤد)حضرت جابر کی حدیث کہ جو زمین آباد کرے باب غصب میں سعید ابن زید کی روایت سے ذکر کردی گئی اور ابو صرمہ کی حدیث کہ جو نقصان دےاللّٰهاسے نقصان دے گا اس باب میں ذکر ہوگی کہ تعلق ممنوع ہے ۶؎

شرح حدیث

۱∞؎عضدضاد اور دال کے فتح سے یا ضاد کے پیش سے،کھجور کی وہ شاخ یہاں تک ہاتھ پہنچ جائے اور اس کے پھل ہاتھ سے توڑے جاسکیں یعنی انکے کھجور کی ایک نچلی شاخ ان کے پڑوسی انصاری کے باغ میں پہنچ گئی تھی جس کے سبب انہیں اس باغ میں جانا ہوتا تھا۔
۲
؎یعنی حضرت سمرہ اپنے اس شاخ کے پھل لینے اس کے باغ میں جاتے تو صاحب باغ کو بے پردگی وغیرہ کی وجہ سے اذیت ہوتی ہے۔
۳
؎طلبکے بعدالٰیسے معلوم ہوتا ہے کہ حضور انور نے حضرت سمرہ کو انکے گھر سے اپنی بارگاہ عالی میں بلایا۔لیبیعہمیں لام بلانے کی علت ہے یعنی اس لیے بلایا کہ حضرت سمرہ وہ درخت کھجور یا اس کی وہ شاخ جو انصاری کے باغ میں تھی اس انصاری کے ہاتھ فروخت کردیں تاکہ وہ انصاری یہ شاخ کاٹ دیں اور ان کا آنا جانا بند ہوجائے،اس لیے نہ فروخت کیں کہ انصاری اس شاخ کے پھل کھایا کریں کہ یہ ممنوع ہے۔اس سے دو مسئلے معلوم ہوئے: ایک یہ کہ بغیر مدعی علیہ کا بیان لیے ہوئے فیصلہ نہ کرنا چاہیے۔دوسرے یہ کہ مدعی علیہ کے پاس سمّن بھیجنا،اس کی تعمیل کرانا سنت سے ثابت ہے اس کی اصل یہ ہی حدیث ہے۔
۴
؎یعنی اولًا تو حضور انور نے ان سے فرمایا کہ اپنے پڑوسی انصاری سے قیمت لے کر وہ شاخ اس کے ہاتھ فروخت کردو اور انکار کرنے پر فرمایا کہ جنت لے لو اور یہ شاخ اسے ویسے ہی بغیرقیمت دے دو۔اس سے دومسئلے معلوم ہوئے:ایک یہ کہ حضور انور کے مشورہ پر عمل کرنا بہتر ہے نہ کرنا بھی جائز ہے مگر حکم مصطفوی کی اطاعت بہرحال لازم ہے،یہ حکم نہ تھا مشورہ تھا۔دوسرے یہ کہ حضور انور جنت کے مالک ہیں،باذن پروردگار جسے چاہیں بخشیں،دیکھو حضرت سمرہ کو صرف ایک شاخ خرما کے عوض جنت کا باغ عطا فرمارہے ہیں،یہ ہے سلطنت مصطفی صلی اللّٰہ علیہ و سلم۔اس کی تحقیق ہماری کتاب "سلطنت مصطفی"میں دیکھئے۔
۵
؎اس سے دو مسئلے معلوم ہو ئے:ایک یہ کہ حاکم کو رعیت کے مال میں تصرف کرنے کا حق ہے عدل قائم کرنے کے لیے،دیکھو حضرت سمرہ کے درخت کی شاخ اس انصاری پر زیادتی و ظلم کا باعث تھی تو حضور انور نے بغیر ان کی رضا کے اس کے کاٹنے کا حکم دے دیا مگر انصاری کو صرف کاٹ دینے کا حکم دے دیا،اس شاخ کی لکڑی و پھل حضرت سمرہ کے ہی ہوں گے وہ انصاری نہ لے سکیں گے۔دوسرے یہ کہ حضرات صحابہ کرام نے اخلاق و مروت آہستہ آہستہ سیکھے بچہ اسکول میں پہنچتے ہی بی۔اے نہیں پاس کرلیتا،ابھی حضرت سمرہ نئے نئے حاضری بارگاہ سے مشرف ہوئے تھے،آداب سے پورے پورے واقف نہ تھے پھر یہ ہی صحابہ حضور صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے اشارہ پرجان نثار کرتے تھے لہذا اس حدیث سے صحابہ کی سرتابی ثابت نہیں ہوسکتی۔
۶
؎یعنی مصابیح میں یہ دونوں حدیثیں اس جگہ تھیں،ہم نے مناسبت کا لحاظ رکھتے ہوئے ایک حدیث تو پیچھے بیان کردی اور دوسری حدیث آگے بیان کریں گے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 3006