Main Icon

باب: بنجر زمین کا آباد کرنا اور پانی دینا - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2999

تجارتوں کا بیان - جلد 4

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَائِلٍ عَنْ أَبِيهِ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَقْطَعَهٗ أَرْضًا بِحَضْرَمَوْتَ قَالَ: فَأَرْسَلَ مَعِي مُعَاوِيَةَ قَالَ: «أَعْطِهَا إِيَّاه» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ والدَّارِمِيُّ

وعن علقمة بن وائل عن أبيه: أن النبي صلى الله عليه وسلم أقطعه أرضا بحضرموت قال: فأرسل معي معاوية قال: «أعطها إياه» . رواه الترمذي والدارمي

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت علقمہ ابن وائل سے وہ اپنے والد سے راوی ۱؎کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے انہیں حضر موت میں کچھ زمین جاگیر بخشی فرماتے ہیں میرے ساتھ حضرت معاویہ کو بھیجا فرمایا وہ زمین انہیں دے آؤ ۲؎(ترمذی،ابوداؤد)

شرح حدیث

۱∞؎علقمہ تابعی ہیں،ان کے والد حضرت وائل ابن حجر حضری صحابی ہیں،یہ یمن کے شاہزادے تھے،ان کے دوسرے صاحبزادے عبدالجبار ہیں، دونوں تابعی ہیں،حضرت وائل ابن حجر کو حضور انور نے یہ عطیہ دیا۔
۲
؎حضر موت یمن کا مشہور شہر ہے،اہلِ یمن کے مورث اعلٰی عامر کا یہ لقب تھا کیونکہ وہ جس جنگ میں پہنچ جاتے وہاں کشتوں کے پشتے لگ جاتے اس لیے انہیں حضر موت کہتے تھے انہوں نے یہ شہر آباد کیا تو شہر کا نام حضر موت ہوا اور بھی کئی وجہ تسمیہ بیان کی گئی ہیں اور یہ معاویہ ابن ابو سفیان نہیں بلکہ معاویہ ابن حکم سلمی ہیں کیونکہ معاویہ ابن ابوسفیان کا اسلام تو فتح مکہ میں ظاہر ہوا اور یہ واقعہ فتح مکہ سے بہت پہلے کا ہے۔(مرقات)اس سے معلوم ہوا کہ کسی کو قبضہ دینے اور لینے کا وکیل کرسکتے ہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2999