Main Icon

باب : وتر کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1285

نماز کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُوتِرُ بِوَاحِدَةٍ ثُمَّ يَرْكَعُ رَكْعَتَيْنِ يَقْرَأُ فِيهِمَا وَهُوَ جَالِسٌ فَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَرْكَعَ قَامَ فَرَكَعَ. رَوَاهُ ابْنُ مَاجَه

وعن عائشة رضي الله عنها قالت: كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يوتر بواحدة ثم يركع ركعتين يقرأ فيهما وهو جالس فإذا أراد أن يركع قام فركع. رواه ابن ماجه

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عائشہ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا سے فرماتی ہیں کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم ایک رکعت سے وتر پڑھتے تھے ۱∞؎پھر دو رکعتیں پڑھتے جن میں قرأت بیٹھے ہوئے کرتے جب رکوع کرنا چاہتے تو کھڑے ہو جاتے پھر رکوع کرتے ۲؎(ابن ماجہ)

شرح حدیث

۱∞؎اس کی شرح خود ام المؤمنین کی دوسری روایات میں گزر چکی کہ حضور صلی الله علیہ وسلم تین رکعت وتر پڑھتے تھے لہذا اس کے معنی بھی وہ ہی ہیں کہ ایک رکعت سے گزشتہ شفع کو وتر بناتے تھے تاکہ احادیث متعارض نہ ہوں۔۲؎خیال رہے کہ حضور انور صلی الله علیہ وسلم وتر کے بعد کے نفلوں میں کبھی قرأت مختصر کرتے تھے،کبھی دراز۔مختصر کی حدیث حضرت ام سلمہ نے روایت کی اور دراز کی روایت حضرت عائشہ صدیقہ نے لہذا یہ حدیث گزشتہ حدیث کے خلاف نہیں،مختصر قرأت میں رکوع بیٹھ کر ہی کرتے تھے اور دراز قرأت میں کھڑے ہو کر کبھی کبھی بیٹھے بیٹھے۔(مرقات)

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1285