Main Icon

باب : وتر کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1260

نماز کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : «مَنْ خَافَ أَنْ لَا يَقُومَ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ فَلْيُوتِرْ أَوَّلَهٗ وَمَنْ طَمَعَ أَنْ يَقُومَ آخِرَهٗ فَلْيُوتِرْ آخِرَ اللَّيْلِ فَإِنَّ صَلَاةَ آخِرِ اللَّيْلِ مَشْهُودَةٌ وَذٰلِكَ أَفْضَلُ» . رَوَاهُ مُسْلِمٌ

وعن جابر قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : «من خاف أن لا يقوم من آخر الليل فليوتر أوله ومن طمع أن يقوم آخره فليوتر آخر الليل فإن صلاة آخر الليل مشهودة وذلك أفضل» . رواه مسلم

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت جابر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ جو آخر رات میں نہ اٹھنے کا خوف کرے وہ اول رات میں وتر پڑھ لے ۱؎ اور جسے آخر شب میں اٹھنے کی امید ہو وہ آخر شب میں وتر پڑھے کیونکہ آخر شب کی نماز حاضری ملائکہ سے مشرف ہے اور یہ بہتر ہے ۲؎ (مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎یہ ا مروجوبی ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ وتر واجب ہیں۔
۲
؎حضرت ابوبکر صدیق اول شب میں وتر پڑھ لیتے تھے اور حضرت عمرفاروق آخر شب میں،حضور صلی الله علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ ابوبکر تم احتیاط پر عمل کرتے ہو اور اے عمر تم قوت و اجتہاد پر۔خیال رہے کہ یہاں فرشتوں سے مراد رحمت کے فرشتے ہیں جو آخر شب میں الله کی رحمتیں لے کر اترتے ہیں،بعض شارحین نے فرمایا کہ مشہود کے معنی ہیں عظمت کی گواہی دی ہوئی۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1260