Main Icon

باب : وتر کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1282

نماز کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ نَافِعٍ قَالَ: كُنْتُ مَعَ ابْنِ عُمَرَ بِمَكَّةَ وَالسَّمَاءُ مُغَيِّمَةٌ فَخَشِيَ الصُّبْحَ فَأَوْتَرَ بِوَاحِدَةٍ ثُمَّ انْكَشَفَ فَرَأٰى أَنَّ عَلَيْهِ لَيْلًا فَشَفَّعَ بِوَاحِدَةٍ ثُمَّ صَلّٰى رَكْعَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ فَلَمَّا خَشِيَ الصُّبْحَ فَأَوْتَرَ بِوَاحِدَةٍ. رَوَاهُ مَالِكٌ

وعن نافع قال: كنت مع ابن عمر بمكة والسماء مغيمة فخشي الصبح فأوتر بواحدة ثم انكشف فرأى أن عليه ليلا فشفع بواحدة ثم صلى ركعتين ركعتين فلما خشي الصبح فأوتر بواحدة. رواه مالك

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت نافع سے فرماتے ہیں کہ میں مکہ معظمہ میں حضرت ابن عمر کے ساتھ تھا آسمان ابرآلود تھا آپ نے صبح کا خوف کیا تو ایک رکعت سے وتر پڑھی ۱∞؎پھر بادل کھل گیا تو دیکھا کہ ابھی آپ پر رات ہے تو ایک رکعت سے شفعہ بنادیا۲؎پھر دو رکعتیں پڑھتے رہے جب صبح کا خوف ہوا تو ایک رکعت سے وتر پڑھی ۳؎(مالک)

شرح حدیث

۱∞؎اس طرح کہ دو رکعت سے ایک رکعت ملا دی جس سے وہ نماز وتر بن گئی اور اگر یہ معنی ہیں کہ ایک رکعت وتر پڑھی تو یہ ان کا اپنا اجتہاد ہے حضرت عمر رضی الله عنہ جو ان سے زیادہ فقیہ ہیں تین وتر پڑھتے تھے۔۲؎یعنی تیسری رکعت میں انہیں پتہ لگا کہ ابھی رات زیادہ ہے تو اس ہی میں ایک رکعت اور ملا کر چار ر کعت پڑھ لیں جو تہجد کے نفل ہوگئے یہ بھی حضرت ابن عمر کا اجتہاد ہے ورنہ وتر واجب ہیں انہیں شروع کرکے دیددہ و دانستہ نفل نہیں بنایا جاسکتا آپ نے یہ عمل کیا اس لیئے تاکہ وتر آخری نماز رہے اور حضور صلی الله علیہ وسلم کے فرمان پر عمل ہوجاوے۔۳؎یہاں ایک شب میں دو وتر نہ ہوئے جو ممنوع ہے بلکہ پہلی بار کے وتر تو نفل بنادیئے تھے ا ب یہ نماز وتر ہوئی اور اس کے معنی یہ ہی ہیں کہ آپ نے ایک رکعت دو سے ملا کر تین وتر پڑھے،باستعانت کی ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1282