Main Icon

باب : وتر کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1267

نماز کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ خَارِجَةَ بْنِ حُذَافَةَ قَالَ: خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ: " إِنَّ اللهَ أَمَدَّكُمْ بِصَلَاةٍ هِيَ خَيْرٌ لَكُمْ مِنْ حُمُرِ النِّعَمِ: الْوَتْرُ جَعَلَهُ اللهُ لَكُمْ فِيمَا بَيْنَ صَلَاةِ الْعِشَاءِ إِلٰى أَنْ يَطْلَعَ الْفَجْرُ ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ

وعن خارجة بن حذافة قال: خرج علينا رسول الله صلى الله عليه وسلم وقال: " إن الله أمدكم بصلاة هي خير لكم من حمر النعم: الوتر جعله الله لكم فيما بين صلاة العشاء إلى أن يطلع الفجر ". رواه الترمذي وأبو داود

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت خارجہ ابن حذافہ سے فرماتے ہیں ہمارے پاس رسو ل الله صلی الله علیہ وسلم تشریف لائے اور فرمایا کہ الله نے ایک نماز سے تمہاری مدد فرمائی ۱∞؎جو تمہارے لیئے سرخ اونٹوں سے بہتر ہے ۲؎(وتر)اسے الله نے تمہارے لیئے نماز عشاء و طلوع فجر کے درمیان ر کھا ہے ۳؎(ترمذی،ابوداؤد)

شرح حدیث

۱∞؎آپ صحابی،قرشی،بڑے بہادر جنگجو مجاہد ہیں،قریش کے سواروں میں آپ کو ایک ہزار سواروں کے برابر مانا جاتا تھا،ایک بار حضرت عمرو ابن عاص نے حضرت عمر سے تین ہزار سواروں کی کمک مانگی تو آپ نے تین شخص بھیجے حضرت خارجہ،زبیر ابن عوام مقداد ابن اسود رضی الله عنہم،آپ۴۰ھ ∞ میں خوارج کے ہاتھوں عمرو ابن عاص کے دھوکہ میں قتل ہوئے کہ خوارج نے امیر معاویہ،علی مرتضی،عمرو ابن عاص کے قتل کی سازش کی تھی تو علی مرتضیٰ شہید کردیئے گئے،عمرو ابن عاص کے دھوکہ میں آپ شہید کردیئے گئے او ر امیر معاویہ بچ گئے۔۲؎یعنی نماز پنجگانہ کے علاوہ تمہیں نماز وتر اور دی جوان نمازوں کا تمتہ اور تکملہ ہے اور تمہارے لیئے دنیا کی تمام چیزوں حتی کہ سرخ اونٹوں سے بھی زیادہ بہتر ہے۔اہل عرب سرخ اونٹ کو جان سے زیادہ عزیز رکھتے تھے۔اس سے معلوم ہوا کہ وتر واجب ہیںاَمَدَّکُمکے ایک معنی یہ بھی کیے گئے ہیں کہ رب نے تمہیں ایک نماز یعنی وتر ا ور بھی زیادہ دی۔۳؎یعنی وتر کا وقت عشاء کا وقت ہے مگر اس کے لیئے شرط ہے کہ عشاء کے فرض کے بعد پڑھی جائے۔خیال رہے کہ بعض محدثین نے اس حدیث کو ضعیف کہا لیکن حاکم اور ابن سکن نے اس کی تصحیح کی ہے،ترمذی نے اسے غریب فرمایا مگر یہ ضعیف یا غرابت امام ابوحنیفہ کو مضر نہیں کیونکہ یہ چیزیں امام صاحب کے بعد پیدا ہوئیں،بہرحال حدیث صحیح اور اس سے وتر کا وجوب ثابت ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1267