Main Icon

باب : وتر کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1283

نماز کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَائِشَةَ: أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّي جَالِسًا فَيَقْرَأُ وَهُوَ جَالِسٌ فَإِذَا بَقِيَ مِنْ قِرَاءَتِهٖ قَدْرُ مَا يَكُونُ ثَلَاثِينَ أَوْ أَرْبَعِينَ آيَةً قَامَ وَقَرَأَ وَهُوَ قَائِمٌ ثُمَّ رَكَعَ ثُمَّ سَجَدَ ثُمَّ يَفْعَلُ فِي الرَّكْعَةِ الثَّانِيَةِ مِثْلَ ذٰلِكَ . رَوَاهُ مُسْلِمٌ

وعن عائشة: أن رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يصلي جالسا فيقرأ وهو جالس فإذا بقي من قراءته قدر ما يكون ثلاثين أو أربعين آية قام وقرأ وهو قائم ثم ركع ثم سجد ثم يفعل في الركعة الثانية مثل ذلك . رواه مسلم

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عائشہ سے کہ رسو ل الله صلی الله علیہ وسلم بیٹھ کر نماز پڑھتے تھے تو بیٹھے ہوئے پڑھتے رہتے جب آپ کی قرأت سے تیس چالیس آیتوں کی بقدر رہ جاتی تو کھڑے ہو کر قرأت کرتے پھر رکوع کرتے پھر سجدہ کرتے پھر دوسری رکعت میں اسی طرح کرتے ۱∞؎(مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎یہ حضور صلی الله علیہ وسلم کے آخر حیات شریف کا ذکر ہے جب آپ پر ضعف غالب ہوگیا تھا تہجد میں دراز قرأت کرنا چاہتے تھے مگر دراز قیام پر قوت نہ تھی اس لیئے یہ عمل فرماتے۔خیال رہے کہ نفل بیٹھ کر شروع کرنا اور کھڑے ہو کر رکوع سجود کرنا تمام کے نزدیک بلا کراہت جائز ہے اسی حدیث کی وجہ سے مگر اس کے برعکس یعنی کھڑے ہو کر شروع کرنا پھر بلا عذر بیٹھ جانا یہ امام اعظم کے نزدیک بلا کراہت جائز ہے ،صاحبین کے ہاں مکروہ۔(کتب فقہ و مرقاۃ)

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1283