Main Icon

باب : وتر کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1273

نماز کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ: عَلَّمَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَلِمَاتٍ أَقُولُهُنَّ فِي قُنُوتِ الْوَتْرِ: «اَللّٰهُمَّ اهْدِنِيْ فِيْمَنْ هَدَيْتَ وَعَافِنِيْ فِيْمَنْ عَافَيْتَ وَتَوَلَّنِيْ فِيْمَنْ تَوَلَّيْتَ وَبَارِكْ لِيْ فِيْمَا أَعْطَيْتَ وَقِنِيْ شَرَّ مَا قَضَيْتَ فَإِنَّكَ تَقْضِي وَلَا يُقْضٰى عَلَيْكَ أَنَّهٗ لَا يَزِلُّ مَنْ وَالَيْتَ تَبَارَكَتْ رَبَّنَا وَتَعَالَيْتَ». رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ والدَارمِيْ

وعن الحسن بن علي رضي الله عنهما قال: علمني رسول الله صلى الله عليه وسلم كلمات أقولهن في قنوت الوتر: «اللهم اهدني فيمن هديت وعافني فيمن عافيت وتولني فيمن توليت وبارك لي فيما أعطيت وقني شر ما قضيت فإنك تقضي ولا يقضى عليك أنه لا يزل من واليت تباركت ربنا وتعاليت». رواه الترمذي وأبو داود والنسائي وابن ماجه والدارمي

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت حسن ابن علی سے فرماتے ہیں ۱∞؎مجھے رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے چند کلمات سکھائے جنہیں میں وتر کے قنوت میں پڑھا کروں الٰہی مجھے ان میں ہدایت دے جنہیں تو نے ہدایت دی اور عافیت والوں میں عافیت دے جن کا تو والی بنا ان میں میرا والی ہو ۲؎اپنے دیئے میں مجھے برکت دے اور قضاء قدر کی برائی سے مجھے بچا ۳؎کہ تو فیصلہ کرتا ہے تجھ پر فیصلہ نہیں کیا جاتا جس کا تو والی ہو و ہ ذلیل نہیں ہوتا اے رب تو برکت و بلندی والا ہے۴؎(ترمذی و ابوداؤد،نسائی ابن ماجہ ، دارمی)

شرح حدیث

۱∞؎ہمیشہ سارا سال نہ کہ صرف نصف آخر رمضان میں لہذا یہ حدیث امام اعظم کی قوی دلیل ہے کہ دعائے قنوت وتر میں ہمیشہ پڑھی جائے۔خیال رہے کہ امام حسن کی پیدائش رمضان۳ھ ∞میں ہے لہذا حضور صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے وقت آ پ سات برس کے تھے اس عمر میں کی ہوئی روایت معتبر ہے۔۲؎یعنی مجھے اس جماعت میں والی بنا جنہیں تو نے ہدایت عافیت اور ولایت بخشی۔بعض علماء فرماتے ہیں کہ ہدایت سے مراد ہے نیک اعمال کی رہبری اور عافیت سے مراد ہے بری بیماریوں،برے اخلاق اور بری خواہشات سے حفاظت۔ولایت سے مراد ہے اپنی امن میں لینا اور ہمیں نفس و شیطان کے حوالے نہ کردینا۔۳؎یعنی میرے متعلق برے فیصلے نہ فرما اچھے فیصلے کر۔۴؎سُبْحَانَ اللّٰهِ !نہایت جامع دعا ہے اگر وتروں میں یہ پڑھی جائے تب بھی جائز و بہتر ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1273