Main Icon

باب : وتر کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1268

نماز کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : «مَنْ نَامَ عَنْ وِتْرِهٖ فَلْيُصَلِّ إِذَا أَصْبَحَ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ مُرْسَلاً

وعن زيد بن أسلم قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : «من نام عن وتره فليصل إذا أصبح» . رواه الترمذي مرسلا

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت زید ابن اسلم سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ جو وتر کے بغیر سوجائے وہ صبح ہونے پر پڑھ لے ۱∞؎(ترمذی مرسلًا)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی اگر عشاء پڑھ لی ہو تہجد کے وقت آنکھ نہ کھلے تو صبح کے بعد نماز فجر سے پہلے وتر قضاء کرے،پھر فجر پڑھے،صاحب ترتیب کے لیئے وتر پہلے پڑھنا فرض ہے دوسرے کے لیئے بہتر۔اس سے معلوم ہوا کہ وتر محض سنت نہیں بلکہ واجب ہیں کہ صرف سنتوں کی قضا نہیں پڑھی جاتی،یہ حدیث امام اعظم کی قوی دلیل ہے اگرچہ مرسل ہے کیونکہ زید ا بن اسلم تابعی ہیں،عمر فاروق کے غلام ہیں مگر چونکہ آپ بڑے ثقہ عالم فقیہ تھے،آپ کی مجلس علم میں چالیس سے زیادہ فقہاء بیٹھتے تھے حتی کہ امام زین العابدین بھی آپ کے شاگرد ہیں اور امام مالک، سفیان ثوری وغیرہ محدثین کے آپ شیخ ہیں اس لیئے آپ کی مرسل یقینًا قبول ہے۔(از اشعۃ اللمعات)آپ کی وفات۱۳۶ھ ∞ میں ہوئی۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1268