Main Icon

باب : وتر کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1264

نماز کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِيْ قَيْسٍ قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ: بِكَمْ كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُوتِرُ؟ قَالَتْ: كَانَ يُوتِرُ بِأَرْبَعٍ وَثَلَاثٍ وَسِتٍّ وَثَلَاثٍ وَثَمَانٍ وَثَلَاثٍ وَعَشْرٍ وَثَلَاثٍ وَلَمْ يَكُنْ يُوتِرُ بِأَنْقَصَ مِنْ سَبْعٍ وَلَابِأَكْثَرَ مِنْ ثَلَاثَ عَشَرَةَ.رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ

وعن عبد الله بن أبي قيس قال: سألت عائشة: بكم كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يوتر؟ قالت: كان يوتر بأربع وثلاث وست وثلاث وثمان وثلاث وعشر وثلاث ولم يكن يوتر بأنقص من سبع ولابأكثر من ثلاث عشرة.رواه أبو داود

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عبد الله ابن ابی قیس سے ۱∞؎فرماتے ہیں میں نے حضرت عائشہ سے پوچھا کہ نبی کریم صلی الله علیہ وسلم کتنے وتر پڑھتے تھے فرمایا چار اور تین،چھ اور تین،آٹھ اور تین،دس اور تین پڑھتے تھے ۲؎سات سے کم نہ پڑھتے تھے اور تیرہ سے زیادہ نہ پڑھتے ۳؎(ابوداؤد)

شرح حدیث

۱∞؎عجیب لطف ہے کہ آپ کو مرقاۃ نے تابعی لکھا اور اشعہ اللمعات میں فرمایا کہ یہ حضرت ابو موسیٰ اشعری کا نام ہے جو جلیل القدر صحابی ہیں یہ اپنی کنیت میں مشہور ہوگئے۔۲؎یہ حدیث گزشتہ حدیث کی تفسیر ہے جس میں حضرت عائشہ صدیقہ نے فرمایا کہ حضور انور صلی الله علیہ وسلم سات وتر اور دو نفل پڑھتے تھے۔اس حدیث نے بتایا کہ وہاں بھی یہی مراد تھی کہ چار رکعت تہجد اور تین رکعت وتر۔۳؎یعنی تہجد کم سےکم چار رکعت پڑھتے تھے اور زیادہ سے زیادہ دس رکعت یہ آپ کے علم کے لحاظ سے ہے ورنہ دو رکعت بھی تہجد ثابت ہے اور بارہ رکعت بھی۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1264