Main Icon

باب : وتر کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1256

نماز کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ ثَلَاثَ عَشْرَةَ رَكْعَةً يُوتِرُ مِنْ ذٰلِكَ بِخَمْسٍ لَا يَجْلِسُ فِيْ شَيْءٍ إِلَّا فِيْ اٰخِرِهَا "(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وعن عائشة قالت: كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يصلي من الليل ثلاث عشرة ركعة يوتر من ذلك بخمس لا يجلس في شيء إلا في اخرها "(متفق عليه)

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم رات میں تیرہ رکعتیں پڑھتے تھے ان میں سے پانچ رکعت وتر پڑھتے جن میں آخر کے سوا کہیں نہ بیٹھتے ۱∞؎(مسلم، بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی نبی صلی الله علیہ وسلم شب میں آٹھ رکعت تہجد اور پانچ رکعت وتر پڑھتے تھے، اس طرح کہ ان پانچ رکعتوں میں درمیان میں سلام کے لیئے نہ بیٹھتے بلکہ سلام آخر میں ایک بار پھیرتے تھے،یہاں بیٹھنے سے مراد سلام کے لیئے بیٹھنا ہے نہ کہالتحیاتکے لیئے بیٹھنا کیونکہ ہر وقت نماز میں ہر دو رکعت پر بیٹھناالتحیاتپڑھنا تمام آئمہ کے ہاں واجب ہے۔خیال رہے کہ پانچ رکعت وتر حضور صلی الله علیہ وسلم کا پہلا فعل شریف تھا جو بعد میں حضور صلی الله علیہ وسلم نے چھوڑ دیا۔چنانچہ ان ہی عائشہ صدیقہ کی روایات اسی باب میں تین رکعت وتر کی آرہی ہے وہ حضور صلی الله علیہ وسلم کا آخری عمل ہے جو اس عمل کا ناسخ ہے لہذا احادیث میں تعارض نہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1256