Main Icon

باب : وتر کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1275

نماز کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَفِي رِوَايَةٍ لِلنَّسَائِيِّ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزٰى عَنْ أَبِيهِ قَالَ: كَانَ يَقُولُ إِذَا سَلَّمَ: «سُبْحَانَ الْمَلِكِ الْقُدُّوسِ» ثَلَاثًا وَيَرْفَعُ صَوْتَهٗ بِالثَّالِثَةِ

وفي رواية للنسائي عن عبد الرحمن بن أبزى عن أبيه قال: كان يقول إذا سلم: «سبحان الملك القدوس» ثلاثا ويرفع صوته بالثالثة

حدیث ترجمہ

اور نسائی کی عبدالرحمن ابن ابزی کی روایت میں ہے جو انہوں نے اپنے والد سے کی فرمایا کہ جب سلام پھیرتے تو تین بار فرماتے "سبحان الملك القدوس"تیسری بار میں آواز کھینچتے ۱∞؎

شرح حدیث

۱∞؎یعنی بلند آواز سے کہتے اور دراز کرتے۔اس حدیث کے ماتحت لمعات و مرقاۃ وغیرہ میں ہے کہ ذکر بالجہر بہت اعلیٰ چیز ہے بشرطیکہ ریاء سے خالی ہو کہ اس میں غافلوں کو ہوشیار کرنا ہے،سوتوں کو جگانا ہے،شیطان کو بھگانا ہے اور جہاں تک آواز پہنچے وہاں تک کے جانوروں درختوں اینٹ پتھروں کو اپنے ایمان پر گواہ بنانا ہے۔جن احادیث میں ذکر بالجہر سے ممانعت آئی ہے اس سے وہ جہر مراد ہے جس سے دوسروں کو تکلیف ہو یا ذاکر میں ریا ہو۔خیال رہے کہ بعض ذکروں میں جہر شرط ہے جیسا اذان تلبیہ اور بقرعید کے زمانہ میں نمازوں کے بعد تکبیر تشریق وغیرہ۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1275