Main Icon

باب : وتر کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1263

نماز کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

عَن غَضِيْفِ بْنِ الْحَارِثِ قَالَ: قُلْتُ لِعَائِشَةَ: أَرَأَيْتِ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَغْتَسِلُ مِنَ الْجَنَابَةِ فِي أَوَّلِ اللَّيْلِ أَمْ فِي آخِرِهٖ؟ قَالَتْ: رُبَّمَا اغْتَسَلَ فِي أَوَّلِ اللَّيْلِ وَرُبَّمَا اغْتَسَلَ فِي آخِرِهٖ قُلْتُ: اللهُ أَكْبَرُ الْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِي جَعَلَ فِي الْأَمْرِ سِعَةً قُلْتُ: كَانَ يُوتِرُ أَوَّلَ اللَّيْلِ أَمْ فِي آخِرِهٖ؟ قَالَتْ: رُبَّمَا أَوْتَرَ فِي أَوَّلِ اللَّيْلِ وَرُبَّمَا أَوْتَرَ فِي آخِرِهٖ قُلْتُ: اللهُ أَكْبَرُ الْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِي جَعَلَ فِي الْأَمْرِ سِعَةً قُلْتُ: كَانَ يَجْهَرُ بِالْقِرَاءَةِ أَمْ يَخْفُتُ؟ قَالَتْ: رُبَّمَا جَهَرَ بِهٖ وَرُبَّمَا خَفَتَ قُلْتُ: اللهُ أَكْبَرُ الْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِي جَعَلَ فِي الْأَمْرِ سِعَةً. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَرَوٰى ابْنُ مَاجَهْ الْفَصْلَ الْأَخِيرَ

عن غضيف بن الحارث قال: قلت لعائشة: أرأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يغتسل من الجنابة في أول الليل أم في آخره؟ قالت: ربما اغتسل في أول الليل وربما اغتسل في آخره قلت: الله أكبر الحمد لله الذي جعل في الأمر سعة قلت: كان يوتر أول الليل أم في آخره؟ قالت: ربما أوتر في أول الليل وربما أوتر في آخره قلت: الله أكبر الحمد لله الذي جعل في الأمر سعة قلت: كان يجهر بالقراءة أم يخفت؟ قالت: ربما جهر به وربما خفت قلت: الله أكبر الحمد لله الذي جعل في الأمر سعة. رواه أبو داود وروى ابن ماجه الفصل الأخير

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت غضیف ابن حارث سے ۱∞؎فرماتے ہیں میں نے حضرت عائشہ سے عرض کیا کہ فرمایئے تو رسول الله صلی الله علیہ وسلم غسل جنابت اول شب میں کرتے تھے یا آخر میں فرمایا اکثر اول شب میں غسل کرتے تھے اور اکثر آخر میں ۲؎میں نے کہالله اکبرخدا کا شکر ہے اس کام میں گنجائش رکھی میں نے عرض کیا کہ اول رات میں وتر پڑھتے تھے یا آخر میں فرمایا بارہا اول رات میں وتر پڑھتے تھے بار ہا آخر میں ۳؎میں نے کہالله اکبرخدا کا شکر ہے جس نے اس معاملہ میں گنجائش دی میں نے عرض کیا کہ بلند قرأت کرتے تھے یا آہستہ فرمایا بارہا بلند کرتے تھے بارہا آہستہ ۴؎میں نے کہالله اکبرخدا کا شکر ہے جس نے اس میں گنجائش دی۔(ابو داؤد)اور ابن ماجہ نے آخری بات روایت کی۔

شرح حدیث

۱∞؎آپ نے حضور صلی الله علیہ وسلم کا زمانہ شریف پایا مگر صحبت پاک پانے میں اختلاف ہے،اسی لیئے بعض محدثین نے آپ کو صحابی کہا ہے اور بعض نے تابعی۔۲؎یہ اکثریت اضافی نہیں بلکہ حقیقی ہے یعنی اول شب میں غسل کرلینا بھی بارہا تھا اور آخر میں بھی یعنی یہ بھی جائز ہے کہ جنبی ہوتے ہی غسل کرے اور یہ بھی کہ رات بھر جنابت میں گزارے تہجد یا صبح کے وقت غسل کرلے مگر ایسی صورت میں مستحب یہ ہے کہ وضو کرکے سوئے۔۳؎حضور انور صلی الله علیہ وسلم کا اول شب میں وتر پڑھنا بیان جواز کے لیئے تھا اور آخر شب میں وتر پڑھنا بھی بیان جواز کے لیئے،اول شب میں وتر پڑھنے کی وجہ یہ نہ تھی کہ آپ کو اپنے جاگنے پر بھروسہ نہ تھا بلکہ امت کی آسانی کے لیئے۔۴؎یعنی تہجد میں۔علماء فرماتے ہیں کہ جہاں لوگوں کو تہجد کے لیئے اٹھانا ہو وہاں قدرے بلند قرأت کرے اور جہاں سونے والوں کو تکلیف سے بچانا مقصود ہو وہاں آہستہ کرے۔اس حدیث سے معلوم ہوا کہ خوشی کے موقع پر نعرہ تکبیر لگانا اورسُبْحَانَ اللّٰهِوغیرہ کہنا سنت صحابہ ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1263