Main Icon

باب : وتر کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1262

نماز کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: أَوْصَانِي خَلِيلِي بِثَلَاثٍ: صِيَامِ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ وَ رَكْعَتَيِ الضُّحٰى وَأَنْ أُوْتِرَ قَبْلَ أَنْ أَنَامُ(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وعن أبي هريرة قال: أوصاني خليلي بثلاث: صيام ثلاثة أيام من كل شهر و ركعتي الضحى وأن أوتر قبل أن أنام(متفق عليه)

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں مجھے میرے محبوب نے تین چیزوں کی وصیت کی ہر ماہ میں تین روزوں کی ۱∞؎چاشت کی دو رکعتوں کی اور یہ کہ سونے سے پہلے وتر پڑھا کروں ۲؎(مسلم، بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎شروع مہینہ میں ایک روزہ ،درمیان میں ایک ،آخر میں ایک ،یا ہر عشرہ کے شروع میں ایک روزہ یا ہر مہینہ کی تیرھویں چودھویں پندرھویں کے روزے تیسرا احتمال زیادہ قوی ہے۔
۲
؎اس لیئے کہ آپ بہت رات گئے تک دن کی سنی ہوئی حدیثیں یاد کرتے تھے۔دیر میں سوتے اس لیئے تہجد کو اٹھنا مشکل ہوتا۔(مرقاۃ و اشعہ)اس سے معلوم ہوا کہ دینی طلبہ کے لیئے یہی بہتر ہے کہ رات گئے تک علم میں محنت کریں اور وتر عشاء کے ساتھ پڑھ لیا کریں ان کے لیئے سبق یاد کرنا تہجد سے افضل ہے۔خیال رہے کہ بعض صحابہ کرام خصوصًا ابوہریرہ قرآن کی طرح احادیث یاد کرتے تھے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1262