Main Icon

باب : وتر کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1257

نماز کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ قَالَ انْطَلَقْتُ إِلٰى عَائِشَةَ فَقُلْتُ يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ أَنْبِئِينِي عَنْ خُلُقِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ: أَلَسْتَ تَقْرَأُ الْقُرْآنَ؟ قُلْتُ: بَلٰى. قَالَتْ: فَإِنَّ خُلُقَ نَبِيِّ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ الْقُرْآنَ. قُلْتُ: يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ أَنْبِئِينِي عَنْ وَتْرِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ: كُنَّا نُعِدُّ لَهٗ سِوَاكَهٗ وَطَهُورَهٗ فَيَبْعَثُهُ اللهُ مَا شَاءَ أَنْ يَبْعَثَهٗ مِنَ اللَّيْلِ فَيَتَسَوَّكُ وَيَتَوَضَّأُ وَيُصَلِّي تِسْعَ رَكَعَاتٍ لَا يَجْلِسُ فِيهَا إِلَّا فِي الثَّامِنَةِ فَيَذْكُرُ اللهَ وَيَحْمَدُهٗ وَيَدْعُوهُ ثُمَّ يَنْهَضُ وَلَا يُسَلِّمُ فَيُصَلِّي التَّاسِعَةَ ثُمَّ يَقْعُدُ فَيَذْكُرُ اللهَ وَيَحْمَدُهٗ وَيَدْعُوهُ ثُمَّ يُسَلِّمُ تَسْلِيمًا يُسْمِعُنَا ثُمَّ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ بَعْدَمَا يُسَلِّمُ وَهُوَ قَاعِدٌ فَتِلْكَ إِحْدٰى عَشَرَةَ رَكْعَةً يَابُنَيَّ فَلَمَّا أَسَنَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَخَذَ اللَّحْمَ أَوْتَرَ بِسَبْعٍ وَصَنَعَ فِي الرَّكْعَتَيْنِ مِثْلَ صَنِيعِهٖ فِي الْأُولٰى فَتِلْكَ تِسْعٌ يَا بُنَيَّ وَكَانَ نَبِيُّ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا صَلّٰى صَلَاةً أَحَبَّ أَنْ يُدَاوِمَ عَلَيْهَا وَكَانَ إِذَا غَلَبَهٗ نَوْمٌ أَوْ وَجَعٌ عَنْ قِيَامِ اللَّيْلِ صَلّٰى مِنَ النَّهَارِ ثِنْتَيْ عَشْرَةَ رَكْعَةً وَلَا أَعْلَمُ نَبِيَّ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَرَأَ الْقُرْآنَ كُلَهٗ فِي لَيْلَةٍ وَلَا صَلّٰى لَيْلَةً إِلَى الصُّبْحِ وَلَا صَامَ شَهْرًا كَامِلاً غَيْرَ رَمَضَانَ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ

وعن سعد بن هشام قال انطلقت إلى عائشة فقلت يا أم المؤمنين أنبئيني عن خلق رسول الله صلى الله عليه وسلم قالت: ألست تقرأ القرآن؟ قلت: بلى. قالت: فإن خلق نبي الله صلى الله عليه وسلم كان القرآن. قلت: يا أم المؤمنين أنبئيني عن وتر رسول الله صلى الله عليه وسلم فقالت: كنا نعد له سواكه وطهوره فيبعثه الله ما شاء أن يبعثه من الليل فيتسوك ويتوضأ ويصلي تسع ركعات لا يجلس فيها إلا في الثامنة فيذكر الله ويحمده ويدعوه ثم ينهض ولا يسلم فيصلي التاسعة ثم يقعد فيذكر الله ويحمده ويدعوه ثم يسلم تسليما يسمعنا ثم يصلي ركعتين بعدما يسلم وهو قاعد فتلك إحدى عشرة ركعة يابني فلما أسن صلى الله عليه وسلم وأخذ اللحم أوتر بسبع وصنع في الركعتين مثل صنيعه في الأولى فتلك تسع يا بني وكان نبي الله صلى الله عليه وسلم إذا صلى صلاة أحب أن يداوم عليها وكان إذا غلبه نوم أو وجع عن قيام الليل صلى من النهار ثنتي عشرة ركعة ولا أعلم نبي الله صلى الله عليه وسلم قرأ القرآن كله في ليلة ولا صلى ليلة إلى الصبح ولا صام شهرا كاملا غير رمضان. رواه مسلم

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابن ہشام ۱∞؎سے فرماتے ہیں کہ میں حضرت عائشہ کے پاس گیا عرض کیا اے ام المؤمنین مجھے رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے اخلاق کی خبر دیجئے آپ نے فرمایا کہ کیا تم قرآن نہیں پڑھتے میں نے کہا ہاں بولیں نبی صلی الله علیہ وسلم کا خلق قرآن تھا۲؎میں نے عرض کیا اے ام المؤمنین مجھے رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے وتر کی خبر دیجئے فرمایا ہم آپ کی مسواک اور طہارت کا پانی تیار کردیتے تھے ۳؎تو رات میں جب الله چاہتا انہیں اٹھاتا تو آپ مسواک کرتے اور وضو کرتے اور نو رکعتیں پڑھتے جن میں آٹھویں کے سوا کہیں نہ بیٹھتے ۴؎پھر الله کا ذکر کرتے اور اس کی حمد کرتے اس سے دعا مانگتے پھر بغیر سلام پھیرے کھڑے ہوتے ۵؎تو نویں رکعت پڑھ لیتے پھر بیٹھتے پھر الله کا ذکر کرتے اور اس کی حمد کرتے اور اس سے دعا مانگتے پھر اس طرح سلام پھیرتے کہ ہمیں سنا دیتے پھر سلام کے بعد دو رکعتیں بیٹھ کر پڑھتے اے بچے یہ گیارہ رکعتیں ہوئیں ۶؎پھر جب حضور صلی الله علیہ وسلم سن رسیدہ اور کمزور ہوگئے تو سات رکعتیں وتر پڑھنے لگے ۷؎اور دو رکعتوں میں پہلی رکعتوں کا سا عمل کرتے ۸؎اے بچے یہ نو ہوئیں اور حضور نبی کریم صلی الله علیہ وسلم جب کوئی نماز پڑھتے تو اس پر ہمیشگی کو پسند فرماتے اور جب آپ کو نیند یا تکلیف رات کو اٹھنے سے مانع ہوتی تو دن میں بارہ رکعتیں پڑھ لیتے ۹؎اور مجھے خبر نہیں کہ نبی صلی الله علیہ وسلم نے سارا قرآن ایک رات میں پڑھا ہو اور نہ یہ کہ ساری رات صبح تک نماز پڑھی ہو اور نہ یہ کہ رمضان کے سوا کسی مہینے کا پورا روزہ رکھا ہو ۱۰؎(مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎آپ انصاری ہیں،تابعی ہیں،حضرت انس ابن مالک کے چچا زاد بھائی ہیں،غزوہ ہند میں شریک ہوئے اور مکران میں شہید ہوئے،خواجہ حسن بصری نے آپ سے روایات لیں۔(اشعہ)۲؎یعنی قرآن کریم پر عمل آپ کی جبلی عادات کریمہ تھیں،یہ خاموش قرآن ہے اور حضور صلی الله علیہ وسلم بولتا ہوا قرآن،آپ کا ہر عمل قرآن کریم کی تفسیر ہے۔اس سے معلوم ہوا کہ حضور صلی الله علیہ وسلم بچپن شریف سے ہی قدرتی طور پر قرآن پر عامل تھے،قرآن ہماری ہدایت کے لیئے آیا نہ کہ حضور کی صلی الله علیہ وسلم ۔اسی لیئے فرمایا گیا"ھُدًی لِّلنَّاسِ"اور فرمایا "ھُدًی لِّلْمُتَّقِیۡنَ" قرآن لوگوں کا یا متقین کا ہادی ہے نہ کہ آپ کا،آپ تو اول ہی سے ہدایت یافتہ ہیں صلی الله علیہ وسلم۔۳؎یعنی ہم حضور صلی الله علیہ وسلم کی مسواک اور وضو کا پانی آپ کے سرہانے اول رات ہی میں رکھ دیتے تھے۔معلوم ہوا کہ یہ دونوں چیزیں سرہانے رکھ کر سونا سنت ہے اور یہ خدمت بیوی کے ذمہ ہے۔۴؎نہ سلام کے لیئے نہالتحیاتکے لیئے بلکہ مسلسل آٹھ رکعتیں پڑھتے جیسا کہ اگلی عبارت سے معلوم ہورہا ہے ۔۵؎یعنی آٹھویں رکعت پر بیٹھتے تو مگرالتحیاتوغیرہ پڑھنے کے لیئے نہ کہ سلام پھیرنے کے لیئے۔خیال رہے کہ ام المؤمنین نے یہاں حضور صلی الله علیہ وسلم کی پوری تہجد بیان فرمائی نہ کہ صرف وتر اور یہ حدیث بالاتفاق منسوخ ہے حضور صلی الله علیہ وسلم کا یہ پہلا عمل تھا اب کسی کے نزدیک وتر تہجد سے ملا کر پڑھنا جائز نہیں اور کسی کے ہاں آٹھ رکعتیں مسلسل پڑھنا درست نہیں اگر آٹھ کی نیت باندھے تو ہر دو رکعت میں بیٹھنا اورالتحیاتپڑھنا واجب ہے لہذا یہ حدیث عائشہ صدیقہ کی تین رکعت والی وتر کی حدیث کے خلاف نہیں کہ یہاں پہلے عمل کا ذکر ہے اور وہاں آخری کا۔۶؎اس سے معلوم ہوا کہ وتر کے بعد دو نفل پڑھنا مستحب ہے کھڑے ہو کر پڑھنا ثواب کی زیادتی کا باعث ہے اور بیٹھ کر قرب زیادہ کیونکہ یہ حضور صلی الله علیہ وسلم کا عمل شریف ہے۔وہ جو حدیث شریف میں آیا کہ رات میں وتر کو آخری نماز بناؤ وہاں تہجد سے مراد آخر ہے یعنی تہجد پہلے پڑھو وتر بعد میں یہ دو نفل تہجد نہیں۔۷؎اس طرح کہ چار رکعت تہجد اور تین رکعت و تر علیحدہ تحریمہ اور سلام سے جیسا کہ آگے انہیں کی روایت میں آرہا ہے۔اس جملہ سے معلوم ہوا کہ حضور صلی الله علیہ وسلم کا پہلا والا عمل بالکل منسوخ ہے۔۸؎یعنی آخر عمر شریف میں حضور صلی الله علیہ وسلم کے تہجد و وتر میں تو تبدیلی واقع ہوگئی مگر وتر کے بعد نفلوں میں کوئی تبدیلی نہ ہوئی اسی طرح بیٹھ کر پڑھتے رہے اولیٰ سے مراد پہلی حالت ہے۔۹؎زوال سے پہلے پہلے یا اس لیئے پڑھتے کہ آپ پر نماز تہجد فرض تھی اور فرض کی قضا ضروری ہے تب تو یہ قضا آ پ کی خصوصیت ہے یہ اس لیئے کہ جس کی تہجد رہ جائے اور وہ زوال سے پہلے بارہ رکعتیں پڑھ لے تو تہجد کا ثوا ب پائے گا۔۱۰∞؎سُبْحَانَ اللّٰهِ !یہ عائشہ صدیقہ کی انتہائی احتیاط ہے کہ اپنے علم کی نفی فرمارہی ہیں یعنی ممکن ہے کہ آپ نے سفر میں یا دوسری بیوی کے ہاں یہ عمل کیے ہوں مگر میرے علم میں یہ بات نہ آئی۔عائشہ صدیقہ کی وہ روایت کہ حضور صلی الله علیہ وسلم سارے شعبان کے روزے رکھتے تھے اس حدیث کے خلاف نہیں کیونکہ وہاں سارے ماہ سے اکثر مراد ہے یعنی قریبًا سارا مہینہ۔خیال رہے کہ حضور صلی الله علیہ وسلم کے زمانہ میں پورا قرآن پڑھنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کیونکہ نزول قرآن کی تکمیل وفات شریف سے چند روز پہلے ہی ہوئی ہے حضور صلی الله علیہ وسلم نے یہ عمل امت کی آسانی کے لئے نہ کیئے تاکہ ساری رات نماز اور سارے مہینوں کے روزے سنت نہ ہوجائیں،چونکہ حضور صلی الله علیہ وسلم کے بعد کوئی خدشہ نہ تھا اس لیئے بعض صحابہ نے کبھی تمام رات بھی نمازیں پڑھی ہیں اور ایک رکعت میں ختم قرآن بھی کیا ہے اور ہمیشہ صائم بھی رہے ہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1257