- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 2
- نماز کا بیان
- حدیث نمبر 1257
باب : وتر کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1257
نماز کا بیان - جلد 2
-
- باب : پاکی کا بیان
- باب : وضو واجب کرنے والی چیزوں کا باب
- باب : پاخانے کے آداب کا باب
- باب : مسواک کا باب
- باب: وضوء کی سنتیں
- باب : نہانے کا بیان
- باب : جنبی سے اختلاط کا باب اور کیا چیزیں جنبی کو جائز ہیں
- باب : پانیوں کے احکام کا باب
- باب : نجاستوں کے پاک کرنے کاباب
- باب : موزوں پر مسح کرنے کا باب
- باب : تیمم کا بیان
- باب : مسنون غسل کا باب
- باب : حیض کا باب
- باب : مستحاضہ کاباب
-
- باب:سترہ کا بیان
- باب: نماز پڑھنے کا طریقہ
- باب: تکبیر کے بعد کیا پڑھیں
- باب:نماز میں قرأءت
- باب :رکوع
- باب:سجدہ اوراس کی بزرگی
- باب :التحیات
- باب :نبی صلی الله علیہ وسلم پر درود پڑھنے کی فضیلت
- باب :التحیات میں دعا
- باب : نماز کے بعد ذکر
- باب :نماز میں کون سے کام ناجائز اور کون سے کام مباح(جائز) ہیں
- باب: بھولنے کا بیان
- باب : قرآنی سجدے
- باب : ممانعت کے اوقات
- باب : جماعت اور اس کی فضیلت
- باب : صف سیدھی کرنا
- باب : جگہ کا بیان
- باب : امامت کا بیان
- باب : امام پر لازم امور
- باب : مقتدی پر پیروی واجب ہونے اور مسبوق ہونے كا حکم
- باب : دوبار نماز پڑھنے والے کا بیان
- باب : سنتیں اور ان کی فضیلت
- باب : رات کی نماز
- باب : جب رات میں اٹھے تو کیا کہے
- باب : رات میں اٹھنے کی ترغیب
- باب : عمل میں میانہ روی
- باب : وتر کا بیان
- باب : قنوت کا بیان
- باب : ماہ رمضان میں قیام
- با ب : چاشت کی نماز
- باب : نوافل کا بیان
- باب : تسبیح کی نماز
- باب : سفر کی نماز
- باب : جمعہ کا بیان
- باب : جمعہ واجب ہونے کا بیان
- باب : صفائی کرنا اورنماز جمعہ کیلئے جلدی جانے کا بیان
- باب : خطبہ اور نماز
- باب : خوف کی نماز
- باب : عیدین کی نماز
- باب : قربانی کابيان
- باب : عتیرہ کابیان
- باب : گرہن کی نماز
- باب : سجدۂ شکر کا بیان
- باب :بارش مانگنے کابیان
- باب : ہواؤں کا بیان
-
- باب:ارکان حج
- باب:احرام باندھنے تلبیہ کہنے کا باب
- باب :وداعی حج کا قصہ
- باب: مکہ کا داخلہ اور طواف
- باب: عرفہ میں ٹھہرنا
- باب: عرفہ اور مزدلفہ سے روانگی
- باب:رمی جمروں کی
- باب:ہدی کا باب
- باب:سر منڈانے کا باب
- باب:متفرقات
- باب: بقر عید کے دن کا خطبہ اور تشریق کے دنوں کی رمی اور رخصتی طواف
- باب: جن چیزوں سے محرم بچے
- باب :محرم شکار سے بچے
- باب: روکے اور حج چھوٹ جانے کا باب
- باب: مکہ معظمہ حرم اللّٰه اس کی حفاظت فرمائے
- باب :مدینہ منورہ کا حرم اللّٰہ اسے محفوظ رکھے
-
- باب: کمائی کرنا اور حلال روزی تلاش کرنا
- باب: معاملہ میں نرمی کرنا
- باب: اختیار کا باب
- باب:سود کا باب
- باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی
- باب:ممنوعہ تجارتوں کے متعلق بیان
- باب: سلم اور گروی کا باب
- باب:غلہ روکنے کا بیان
- باب: دیوالیہ کرنا اور مہلت دینا
- باب:شرکت اور وکالت کا باب
- باب:مال ہتھیا لینے اور مانگ کر لینے کا باب
- باب:شفعہ کا باب
- باب:پانی دینے اور کھیتی کرانے کا باب
- باب: کرایہ کا باب
- باب: بنجر زمین کا آباد کرنا اور پانی دینا
- باب: بخششوں کا باب
- باب : پچھلے باب کا تتمہ
- باب: پائی ہوئی چیز کا باب
- باب: میراث کے حصّے
- باب:وصیتوں کا باب
-
- باب:نکاح کا بیان
- باب :جس عورت کو پیغام دیا جائے اسے دیکھ لینااور ستر کا بیان
- باب : نکاح میں ولی کا بیان اور عورت سے اجازت لینے کا بیان
- باب:نکاح کا اعلان،خطبہ اورشرط کا بیان
- باب:حرام عورتوں کابیان
- باب:صحبت کرنے کا بیان
- باب: متفرق احادیث
- باب:مہر کا بیان
- باب:ولیمہ کا بیان
- باب:باری کا بیان
- باب:بیویوں سے رفاقت کا بیان اور ہر ایک کے حقوق کیا ہیں
- باب:خلع اور طلاق کا بیان
- باب:تین طلاق دی ہوئی عورت کا بیان
- باب:ہر کفارہ میں مؤمن غلام ہی آزاد کیا جائے نہ کہ کافر
- باب:لعان کا بیان
- باب:عدت کا بیان
- باب:استبراء کا بیان
- باب:خرچوں اور مملوکہ کے حق کا بیان
- باب:بچہ کی جوانی اور لڑکپن میں اس کی پرورش کا بیان
-
- باب:جہاد کا بیان
- باب:جہاد کے آلات تیار کرنے کا بیان
- باب :سفر کے آداب و طریقے
- باب:کفار کو فرمان لکھنا اور انہیں اسلام کی طرف دعوت دینا
- باب: جہاد میں قتل
- باب: قیدیوں کا حکم
- باب: امان کا بیان
- باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان
- باب:جزیہ کابیان
- باب:صلح کا بیان
- باب:جزیرہ عرب سے یہودیوں کے نکالنے کا بیان
- باب:فئ کا بیان
-
- باب:سلام کا باب
- باب:اجازت لینے کا بیان
- باب:مصافحہ کرنے گلے لگنے کا باب
- باب:کھڑے ہونے کا باب
- باب:بیٹھنے سونے اور چلنے کا باب
- باب: چھینک اور جمائی کا بیان
- باب: ہنسنے کا باب
- باب:ناموں کا بیان
- باب:وعظ و شعر کا بیان
- باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان
- باب:وعدے کاباب
- باب:خوش طبعی کا بیان
- باب: فخر اور تعصب کا بیان
- باب:نیکی اور صلہ رحمی کا بیان
- باب:مخلوق پر شفقت و رحمت کا بیان
- باب:الله کی راہ میں محبت اور الله کی محبت کا بیان
- باب: اس کا بیان کہ مسلمانوں کو چھوڑے رکھنا ان کا بائیکاٹ کرنا اورچھپے عیوب کی تلاش ممنوع ہے
- باب:احتیاط کرنے اور کاموں میں اطمینان کا بیان
- باب:نرمی و شرم وغیرت اور اچھی عادت کا بیان
- باب:غصہ اورغرور کا بیان
- باب:ظلم کا بیان
- باب :نیک باتوں کا حکم دینا
-
- باب: دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان
- باب : فقیروں کی بزرگی کا بیان ۱؎ اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی زندگی شریف کیسی تھی ۲؎
- باب : امید اور حرص کا بیان
- باب : اطاعت کے لیے مال اور عمر کا بہتر ہونا
- باب : توکل اور صبر کا بیان
- باب : دکھلاوے اور شہرت کا بیان
- باب : رونے اور ڈرنے کا بیان
- باب : لوگوں میں تبدیلی کا بیان
- باب : متفرقات و ملحقات کا بیان
-
- باب:فتنوں کا بیان
- باب : لڑائیوں کا بیان
- باب : قیامت کی علامتوں کا بیان
- باب : قیامت کے سامنے والی علامات اور دجّال کا بیان
- باب : ابن صیاد کا قصہ
- باب : عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری
- باب : قیامت کا قریب ہونا اور جو مر گیا تو اس کی قیامت قائم ہوگئی
- باب : قیامت قائم نہ ہوگی مگر بد ترین لوگوں پر
- باب : صور پھونکے جانے کا بیان
- باب : حشر کا بیان
- باب : حساب،بدلہ،ترازو کا بیان
- باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎
- باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان
- باب : الله تعالٰی کے دیدار کا بیان
- باب : آگ اور آگ والوں کا بیان
- باب : جنت اور دوزخ کی پیدائش
- باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر
-
- باب:کرامات کا بیان
- باب:صحابہ کرام کی ہجرت مدینہ اور حضور صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے مقدمات
- باب: حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا تتمہ
- باب:قریش کے فضائل اور قبائل کے ذکر کا بیان
- حضرات صحابہ کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر صدیق کے فضائل
- باب:حضرت عمر کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے فضائل
- باب:حضرت عثمان کے فضائل رضی اللہ عنہ
- باب:ان تینوں کے فضائل
- باب:حضرت علی ابن ابی طالب رضی الله عنہ کے فضائل
- باب:دس صحابہ کے فضائل رضی اللہ عنہم
- باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین
- باب:نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے فضائل
- باب: منقبتوں کا مجموعہ
- باب:اس امت کے ثواب کا بیان
- باب:یمن اور شام کا ذکر ۱؎اور اویس قرنی کا تذکرہ ۲؎
حدیث مبارکہ
وَعَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ قَالَ انْطَلَقْتُ إِلٰى عَائِشَةَ فَقُلْتُ يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ أَنْبِئِينِي عَنْ خُلُقِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ: أَلَسْتَ تَقْرَأُ الْقُرْآنَ؟ قُلْتُ: بَلٰى. قَالَتْ: فَإِنَّ خُلُقَ نَبِيِّ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ الْقُرْآنَ. قُلْتُ: يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ أَنْبِئِينِي عَنْ وَتْرِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ: كُنَّا نُعِدُّ لَهٗ سِوَاكَهٗ وَطَهُورَهٗ فَيَبْعَثُهُ اللهُ مَا شَاءَ أَنْ يَبْعَثَهٗ مِنَ اللَّيْلِ فَيَتَسَوَّكُ وَيَتَوَضَّأُ وَيُصَلِّي تِسْعَ رَكَعَاتٍ لَا يَجْلِسُ فِيهَا إِلَّا فِي الثَّامِنَةِ فَيَذْكُرُ اللهَ وَيَحْمَدُهٗ وَيَدْعُوهُ ثُمَّ يَنْهَضُ وَلَا يُسَلِّمُ فَيُصَلِّي التَّاسِعَةَ ثُمَّ يَقْعُدُ فَيَذْكُرُ اللهَ وَيَحْمَدُهٗ وَيَدْعُوهُ ثُمَّ يُسَلِّمُ تَسْلِيمًا يُسْمِعُنَا ثُمَّ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ بَعْدَمَا يُسَلِّمُ وَهُوَ قَاعِدٌ فَتِلْكَ إِحْدٰى عَشَرَةَ رَكْعَةً يَابُنَيَّ فَلَمَّا أَسَنَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَخَذَ اللَّحْمَ أَوْتَرَ بِسَبْعٍ وَصَنَعَ فِي الرَّكْعَتَيْنِ مِثْلَ صَنِيعِهٖ فِي الْأُولٰى فَتِلْكَ تِسْعٌ يَا بُنَيَّ وَكَانَ نَبِيُّ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا صَلّٰى صَلَاةً أَحَبَّ أَنْ يُدَاوِمَ عَلَيْهَا وَكَانَ إِذَا غَلَبَهٗ نَوْمٌ أَوْ وَجَعٌ عَنْ قِيَامِ اللَّيْلِ صَلّٰى مِنَ النَّهَارِ ثِنْتَيْ عَشْرَةَ رَكْعَةً وَلَا أَعْلَمُ نَبِيَّ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَرَأَ الْقُرْآنَ كُلَهٗ فِي لَيْلَةٍ وَلَا صَلّٰى لَيْلَةً إِلَى الصُّبْحِ وَلَا صَامَ شَهْرًا كَامِلاً غَيْرَ رَمَضَانَ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ
وعن سعد بن هشام قال انطلقت إلى عائشة فقلت يا أم المؤمنين أنبئيني عن خلق رسول الله صلى الله عليه وسلم قالت: ألست تقرأ القرآن؟ قلت: بلى. قالت: فإن خلق نبي الله صلى الله عليه وسلم كان القرآن. قلت: يا أم المؤمنين أنبئيني عن وتر رسول الله صلى الله عليه وسلم فقالت: كنا نعد له سواكه وطهوره فيبعثه الله ما شاء أن يبعثه من الليل فيتسوك ويتوضأ ويصلي تسع ركعات لا يجلس فيها إلا في الثامنة فيذكر الله ويحمده ويدعوه ثم ينهض ولا يسلم فيصلي التاسعة ثم يقعد فيذكر الله ويحمده ويدعوه ثم يسلم تسليما يسمعنا ثم يصلي ركعتين بعدما يسلم وهو قاعد فتلك إحدى عشرة ركعة يابني فلما أسن صلى الله عليه وسلم وأخذ اللحم أوتر بسبع وصنع في الركعتين مثل صنيعه في الأولى فتلك تسع يا بني وكان نبي الله صلى الله عليه وسلم إذا صلى صلاة أحب أن يداوم عليها وكان إذا غلبه نوم أو وجع عن قيام الليل صلى من النهار ثنتي عشرة ركعة ولا أعلم نبي الله صلى الله عليه وسلم قرأ القرآن كله في ليلة ولا صلى ليلة إلى الصبح ولا صام شهرا كاملا غير رمضان. رواه مسلم
حدیث ترجمہ
روایت ہے حضرت ابن ہشام ۱∞؎سے فرماتے ہیں کہ میں حضرت عائشہ کے پاس گیا عرض کیا اے ام المؤمنین مجھے رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے اخلاق کی خبر دیجئے آپ نے فرمایا کہ کیا تم قرآن نہیں پڑھتے میں نے کہا ہاں بولیں نبی صلی الله علیہ وسلم کا خلق قرآن تھا۲؎میں نے عرض کیا اے ام المؤمنین مجھے رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے وتر کی خبر دیجئے فرمایا ہم آپ کی مسواک اور طہارت کا پانی تیار کردیتے تھے ۳؎تو رات میں جب الله چاہتا انہیں اٹھاتا تو آپ مسواک کرتے اور وضو کرتے اور نو رکعتیں پڑھتے جن میں آٹھویں کے سوا کہیں نہ بیٹھتے ۴؎پھر الله کا ذکر کرتے اور اس کی حمد کرتے اس سے دعا مانگتے پھر بغیر سلام پھیرے کھڑے ہوتے ۵؎تو نویں رکعت پڑھ لیتے پھر بیٹھتے پھر الله کا ذکر کرتے اور اس کی حمد کرتے اور اس سے دعا مانگتے پھر اس طرح سلام پھیرتے کہ ہمیں سنا دیتے پھر سلام کے بعد دو رکعتیں بیٹھ کر پڑھتے اے بچے یہ گیارہ رکعتیں ہوئیں ۶؎پھر جب حضور صلی الله علیہ وسلم سن رسیدہ اور کمزور ہوگئے تو سات رکعتیں وتر پڑھنے لگے ۷؎اور دو رکعتوں میں پہلی رکعتوں کا سا عمل کرتے ۸؎اے بچے یہ نو ہوئیں اور حضور نبی کریم صلی الله علیہ وسلم جب کوئی نماز پڑھتے تو اس پر ہمیشگی کو پسند فرماتے اور جب آپ کو نیند یا تکلیف رات کو اٹھنے سے مانع ہوتی تو دن میں بارہ رکعتیں پڑھ لیتے ۹؎اور مجھے خبر نہیں کہ نبی صلی الله علیہ وسلم نے سارا قرآن ایک رات میں پڑھا ہو اور نہ یہ کہ ساری رات صبح تک نماز پڑھی ہو اور نہ یہ کہ رمضان کے سوا کسی مہینے کا پورا روزہ رکھا ہو ۱۰؎(مسلم)
شرح حدیث
۱∞؎آپ انصاری ہیں،تابعی ہیں،حضرت انس ابن مالک کے چچا زاد بھائی ہیں،غزوہ ہند میں شریک ہوئے اور مکران میں شہید ہوئے،خواجہ حسن بصری نے آپ سے روایات لیں۔(اشعہ)۲؎یعنی قرآن کریم پر عمل آپ کی جبلی عادات کریمہ تھیں،یہ خاموش قرآن ہے اور حضور صلی الله علیہ وسلم بولتا ہوا قرآن،آپ کا ہر عمل قرآن کریم کی تفسیر ہے۔اس سے معلوم ہوا کہ حضور صلی الله علیہ وسلم بچپن شریف سے ہی قدرتی طور پر قرآن پر عامل تھے،قرآن ہماری ہدایت کے لیئے آیا نہ کہ حضور کی صلی الله علیہ وسلم ۔اسی لیئے فرمایا گیا"ھُدًی لِّلنَّاسِ"اور فرمایا "ھُدًی لِّلْمُتَّقِیۡنَ" قرآن لوگوں کا یا متقین کا ہادی ہے نہ کہ آپ کا،آپ تو اول ہی سے ہدایت یافتہ ہیں صلی الله علیہ وسلم۔۳؎یعنی ہم حضور صلی الله علیہ وسلم کی مسواک اور وضو کا پانی آپ کے سرہانے اول رات ہی میں رکھ دیتے تھے۔معلوم ہوا کہ یہ دونوں چیزیں سرہانے رکھ کر سونا سنت ہے اور یہ خدمت بیوی کے ذمہ ہے۔۴؎نہ سلام کے لیئے نہالتحیاتکے لیئے بلکہ مسلسل آٹھ رکعتیں پڑھتے جیسا کہ اگلی عبارت سے معلوم ہورہا ہے ۔۵؎یعنی آٹھویں رکعت پر بیٹھتے تو مگرالتحیاتوغیرہ پڑھنے کے لیئے نہ کہ سلام پھیرنے کے لیئے۔خیال رہے کہ ام المؤمنین نے یہاں حضور صلی الله علیہ وسلم کی پوری تہجد بیان فرمائی نہ کہ صرف وتر اور یہ حدیث بالاتفاق منسوخ ہے حضور صلی الله علیہ وسلم کا یہ پہلا عمل تھا اب کسی کے نزدیک وتر تہجد سے ملا کر پڑھنا جائز نہیں اور کسی کے ہاں آٹھ رکعتیں مسلسل پڑھنا درست نہیں اگر آٹھ کی نیت باندھے تو ہر دو رکعت میں بیٹھنا اورالتحیاتپڑھنا واجب ہے لہذا یہ حدیث عائشہ صدیقہ کی تین رکعت والی وتر کی حدیث کے خلاف نہیں کہ یہاں پہلے عمل کا ذکر ہے اور وہاں آخری کا۔۶؎اس سے معلوم ہوا کہ وتر کے بعد دو نفل پڑھنا مستحب ہے کھڑے ہو کر پڑھنا ثواب کی زیادتی کا باعث ہے اور بیٹھ کر قرب زیادہ کیونکہ یہ حضور صلی الله علیہ وسلم کا عمل شریف ہے۔وہ جو حدیث شریف میں آیا کہ رات میں وتر کو آخری نماز بناؤ وہاں تہجد سے مراد آخر ہے یعنی تہجد پہلے پڑھو وتر بعد میں یہ دو نفل تہجد نہیں۔۷؎اس طرح کہ چار رکعت تہجد اور تین رکعت و تر علیحدہ تحریمہ اور سلام سے جیسا کہ آگے انہیں کی روایت میں آرہا ہے۔اس جملہ سے معلوم ہوا کہ حضور صلی الله علیہ وسلم کا پہلا والا عمل بالکل منسوخ ہے۔۸؎یعنی آخر عمر شریف میں حضور صلی الله علیہ وسلم کے تہجد و وتر میں تو تبدیلی واقع ہوگئی مگر وتر کے بعد نفلوں میں کوئی تبدیلی نہ ہوئی اسی طرح بیٹھ کر پڑھتے رہے اولیٰ سے مراد پہلی حالت ہے۔۹؎زوال سے پہلے پہلے یا اس لیئے پڑھتے کہ آپ پر نماز تہجد فرض تھی اور فرض کی قضا ضروری ہے تب تو یہ قضا آ پ کی خصوصیت ہے یہ اس لیئے کہ جس کی تہجد رہ جائے اور وہ زوال سے پہلے بارہ رکعتیں پڑھ لے تو تہجد کا ثوا ب پائے گا۔۱۰∞؎سُبْحَانَ اللّٰهِ !یہ عائشہ صدیقہ کی انتہائی احتیاط ہے کہ اپنے علم کی نفی فرمارہی ہیں یعنی ممکن ہے کہ آپ نے سفر میں یا دوسری بیوی کے ہاں یہ عمل کیے ہوں مگر میرے علم میں یہ بات نہ آئی۔عائشہ صدیقہ کی وہ روایت کہ حضور صلی الله علیہ وسلم سارے شعبان کے روزے رکھتے تھے اس حدیث کے خلاف نہیں کیونکہ وہاں سارے ماہ سے اکثر مراد ہے یعنی قریبًا سارا مہینہ۔خیال رہے کہ حضور صلی الله علیہ وسلم کے زمانہ میں پورا قرآن پڑھنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کیونکہ نزول قرآن کی تکمیل وفات شریف سے چند روز پہلے ہی ہوئی ہے حضور صلی الله علیہ وسلم نے یہ عمل امت کی آسانی کے لئے نہ کیئے تاکہ ساری رات نماز اور سارے مہینوں کے روزے سنت نہ ہوجائیں،چونکہ حضور صلی الله علیہ وسلم کے بعد کوئی خدشہ نہ تھا اس لیئے بعض صحابہ نے کبھی تمام رات بھی نمازیں پڑھی ہیں اور ایک رکعت میں ختم قرآن بھی کیا ہے اور ہمیشہ صائم بھی رہے ہیں۔
ماخذ و مراجع
کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1257