Main Icon

باب : وتر کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1278

نماز کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ بُرَيْدَة قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «الْوَتْرُ حَقٌّ فَمَنْ لَمْ يُوتِرْ فَلَيْسَ مِنَّا الْوَتْرُ حَقٌّ فَمَنْ لَمْ يُوتِرْ فَلَيْسَ مِنَّا الْوَتْرُ حَقٌّ فَمَنْ لَمْ يُوتِرْ فَلَيْسَ مِنَّا» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ

وعن بريدة قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: «الوتر حق فمن لم يوتر فليس منا الوتر حق فمن لم يوتر فليس منا الوتر حق فمن لم يوتر فليس منا» . رواه أبو داود

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت بریدہ سے فرماتے ہیں میں نے رسول الله صلی الله علیہ وسلم کوفرماتے سنا کہ وتر لازم ہیں تو جو وتر نہ پڑھے وہ ہم سے نہیں وتر لازم ہیں جو وتر نہ پڑھے وہ ہم سے نہیں وتر لازم ہیں تو جو وتر نہ پڑھے وہ ہم سے نہیں ۱∞؎(ابوداؤد)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی وتر فرض عملی اور واجب اعتقادی ہیں۔(مرقاۃ)لہذا جو اس کے وجوب کا عنادًا انکار کرے وہ ہمارے طریقہ سے خارج یعنی گمراہ ہے اور جو اسے واجب جانتے ہوئے نہ پڑھے وہ جماعت صالحین سے خارج ہے اور سخت گنہگار ہے،یہ امام اعظم کی قوی دلیل ہے کہ وتر واجب ہیں۔خیال رہے کہ جو مجتہد تاویل سے اس کے وجوب کا انکار کرے ان کا یہ حکم نہیں جیساکہ تمام فرائض عملی اور واجبات کا حال ہے ۔ہم امام کے پیچھے فاتحہ پڑھنے کو سخت منع کرتے ہیں،امام شافعی واجب فرماتے ہیں مگر کوئی کسی کو گمراہ نہیں کہہ سکتا۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1278