Main Icon

باب : وتر کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1261

نماز کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: مِنْ كُلِّ اللَّيْلِ أَوْتَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ أَوَّلِ اللَّيْلِ وَأَوْسَطِهٖ وَآخِرِهٖ وَانْتَهٰى وَتْرُهُ الى السَّحَرِ

وعن عائشة قالت: من كل الليل أوتر رسول الله صلى الله عليه وسلم من أول الليل وأوسطه وآخره وانتهى وتره الى السحر

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں کہ ر سول الله صلی الله علیہ وسلم نے رات کے ہر حصہ میں وتر پڑھی ہے اول شب میں درمیانی میں آخری میں اور آپ کے وتر سحر پر منتہی ہوئے ۱∞؎(مسلم، بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎سحر سے مراد رات کا آخری چھٹا حصہ ہے یعنی حضور صلی الله علیہ وسلم نے کبھی عشاء کے وقت وتر پڑھ لیئے اور کبھی عشاء پڑھ کر سوئے اور درمیان رات جاگ کر تہجد و وتر پڑھے مگر آخری عمل یہ رہا کہ صبح صادق کے قریب تہجد کے بعد وتر پڑھے،مسلمان جس پر عمل کرے سنت کا ثواب پائے گا اگرچہ آخر رات میں پڑھنا افضل ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1261