Main Icon

باب : وتر کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1265

نماز کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي أَيُّوبَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : «الْوِتْرُ حَقٌّ عَلیٰ كُلِّ مُسْلِمٍ فَمَنْ أَحَبَّ أَنْ يُوتِرَ بِخَمْسٍ فَلْيَفْعَلْ وَمَنْ أَحَبَّ أَنْ يُوتِرَ بِثَلَاثٍ فَلْيَفْعَلْ وَمَنْ أَحَبَّ أَنْ يُوتِرَ بِوَاحِدَةٍ فَلْيَفْعَلْ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيّ وَابْن مَاجَه

وعن أبي أيوب قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : «الوتر حق علی كل مسلم فمن أحب أن يوتر بخمس فليفعل ومن أحب أن يوتر بثلاث فليفعل ومن أحب أن يوتر بواحدة فليفعل» . رواه أبو داود والنسائي وابن ماجه

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابو ایوب سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ ہر مسلمان پر وتر لازم ہیں ۱∞؎جو پانچ وتر پڑھنا چاہے وہ پانچ پڑھے ۲؎جو تین پڑھنا چاہے وہ ایسا ہی کرے ۳؎جو ایک پڑھنا چاہے وہ ایسا ہی کرے ۴؎(ابوداؤد،نسائی،ابن ماجہ)

شرح حدیث

۱∞؎یہ جملہ امام اعظم کی دلیل ہے کہ وتر واجب ہے جس کے چھوڑنے کا اختیار نہیں،اس کی تائید اور احادیث سے بھی ہوتی ہے جو آیندہ آرہی ہے۔۲؎اس طرح کہ دو رکعت تہجد اور تین رکعت وتر۔۳؎اس طرح کہ تہجد نہ پڑھے صرف وتر ہی تین رکعت پڑھے۔۴؎یہ جملہ ہمارے مخالفین کے بھی خلاف ہے کیونکہ ایک رکعت وتر پڑھنے والے یہ نہیں کہتے کہ ایک پڑھے یا تین یا پانچ وہ ایک ہی کو واجب کہتے ہیں اور حدیث سے اختیار ثابت ہورہا ہے لہذا یہ جملہ تین والی احادیث کے مخالف ہے اور ناقابل عمل۔خیال رہے کہ یہاں اس جملہ کے یہ معنی نہیں ہوسکتے کہ ایک رکعت دو سے ملا کر وتر بناؤ کیونکہ یہ صورت تو پہلے بیان ہوچکی۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1265