Main Icon

باب : وتر کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1276

نماز کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ فِي آخِرِ وَتْرِهٖ: «اَللّٰهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِرِضَاكَ مِنْ سَخْطِكَ وَبِمُعَافَاتِكَ مِنْ عُقُوبَتِكَ وَأَعُوْذُ بِكَ مِنْكَ لَا أُحْصِيْ ثَنَاءً عَلَيْكَ أَنْتَ كَمَا أَثْنَيْتَ عَلیٰ نَفْسِكَ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالتِّرْمِذِيْ وَالنَّسَائِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ

وعن علي رضي الله عنه قال: إن النبي صلى الله عليه وسلم كان يقول في آخر وتره: «اللهم إني أعوذ برضاك من سخطك وبمعافاتك من عقوبتك وأعوذ بك منك لا أحصي ثناء عليك أنت كما أثنيت علی نفسك» . رواه أبو داود والترمذي والنسائي وابن ماجه

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت علی سے کہ نبی صلی الله علیہ وسلم اپنے آخری وتر میں فرماتے ۱∞؎الٰہی میں تیری ناراضی سے تیری رضا کی اور تیری سزا سے تیری عافیت کی پناہ مانگتا ہوں، تیری تجھ سے پناہ مانگتا ہوں۲؎تیری حمد میں نہیں کر سکتا تو ایسا ہی ہے جیسی تو نے خود اپنی احمدکی ۳؎(ابوداؤد، ترمذی، نسائی، ابن ماجہ)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی وتر سے فارغ ہونے کے بعد یہ دعا پڑھتے،بعض نے فرمایا کہ آخریالتحیاتمیں سلام سے پہلے بعض کے نزدیک آخری سجدہ میں،امام احمد ابن حنبل کے نزدیک تیسری رکعت کے قومہ میں یعنی رکوع سے اٹھ کر۔چنانچہ ان کے ہاں اس وقت یہ دعا پڑھی جاتی ہے۔۲؎یعنی تیری ذات سے تیری صفات کی پناہ یا تیرے غضب سے تیرے رحم کی پناہ،صوفیاء فرماتے ہیں کہ ان تین پناہوں میں سے پہلی پناہ میں توحید صفات اور دوسری میں توحید افعال تیسری میں توحید ذات کی طرف اشارہ ہے۔۳؎کیونکہ بندہ محدود،بندے کے الفاظ محدود،بندے کی طاقتیں محدود،خدا کے محامد غیر محدود شعر۔دفتر تمام گشت بپایاں رسید عمر
ماہمچناں در اول وصف توماند ہ ایم
نوٹ:جسے یاد نہ ہو وہ "
رَبَّنَا اٰتِنَا فِی الدُّنْیَا"الخ پڑھ لیا کرے بلکہ تین بار "اَللّٰھُمَّ اغْفِرْلِیْ" کہہ دے تو بھی جائز ہے۔(مرقاۃ)

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1276