Main Icon

باب : وتر کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1269

نماز کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ جُرَيْجٍ قَالَ: سَأَلْنَا عَائِشَةَ بِأَيِّ شَيْءٍ كَانَ يُوتِرُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَتْ: كَانَ يَقْرَأُ فِي الْأُولٰى ب(سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَ عَلیٰ )وَفِي الثَّانِيَةِ(قُلْ يَاأَيُّهَا الْكَافِرُونَ)وَفَى الثَّالِثَةِ (قُلْ هُوَ اللهُ أَحَدْ) وَالْمُعَوَّذَتَيْنِ وَرَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ

وعن عبد العزيز بن جريج قال: سألنا عائشة بأي شيء كان يوتر رسول الله صلى الله عليه وسلم ؟ قالت: كان يقرأ في الأولى ب(سبح اسم ربك الأ علی )وفي الثانية(قل ياأيها الكافرون)وفى الثالثة (قل هو الله أحد) والمعوذتين ورواه الترمذي وأبو داود

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عبدالعزیز ابن جریج سے فرماتے ہیں ہم نے حضرت عائشہ سے پوچھا کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم کن سورتوں سے وتر پڑھتے تھے فرمایا پہلی رکعت میں"سَبِّحِ اسْمَ رَبِّکَ الْاَعْلَی"دوسری میں "قُلْ یٰۤاَیُّہَا الْکٰفِرُوۡنَ"اور تیسری میں"قُلْ ھُوَ اللّٰہُ اَحَدٌ"اورفلق والناسسے ۱∞؎(ترمذی،ابوداؤد)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی تیسری رکعت میں یہ تینوں سورتیں پڑھتے تھے۔خیال رہے کہ یہ حدیث امام اعظم نے اپنی مسند میں یوں نقل کی ہے "عَنْ حَمَّادٍ عَنْ اِبْرَاھِیْمَ عَنْ اَسْوَدَ عَنْ عَائِشَۃَ صِدِّیْقَۃاس میں صرفقُلْ ھُوَ اللهکا ذکر ہے اور حاکم نے بشرط مسلم،بخاری حضرت عائشہ سے یہ حدیث نقل کی جس کے آخر میں ہے کہ آپ تین رکعت کے بعد ہی سلام پھیرتے تھے۔نسائی نے حضرت عائشہ سے روایت کی جس کے آخر میں ہے کہ حضور صلی الله علیہ وسلم وتر کی دو رکعتوں پر سلام نہیں پھیرتے تھے۔امام طحاوی نے حضرت ابو العالیہ سے روایت کی کہ اصحاب رسول الله صلی الله علیہ وسلم وتر مغرب کے فرضوں کی طرح پڑھتے تھے او ر اما م حسن نے فرمایا کہ اہل اسلام کا اس پر اجماع ہے کہ وتر تین رکعت ہیں ایک سلام سے۔غرضکہ یہ احادیث اما م اعظم وغیرہم کے قوی دلائل ہیں کہ وتر تین رکعت ہیں اور ایک سلام سے۔اس کی پوری تحقیق اسی مقام پر مرقاۃ میں دیکھو یا ہماری کتاب جاء الحق حصہ دوم میں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1269