- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 5
- آزادی کا بیان
- حدیث نمبر 3384
باب:آزادی کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3384
آزادی کا بیان - جلد 5
-
- باب : پاکی کا بیان
- باب : وضو واجب کرنے والی چیزوں کا باب
- باب : پاخانے کے آداب کا باب
- باب : مسواک کا باب
- باب: وضوء کی سنتیں
- باب : نہانے کا بیان
- باب : جنبی سے اختلاط کا باب اور کیا چیزیں جنبی کو جائز ہیں
- باب : پانیوں کے احکام کا باب
- باب : نجاستوں کے پاک کرنے کاباب
- باب : موزوں پر مسح کرنے کا باب
- باب : تیمم کا بیان
- باب : مسنون غسل کا باب
- باب : حیض کا باب
- باب : مستحاضہ کاباب
-
- باب:سترہ کا بیان
- باب: نماز پڑھنے کا طریقہ
- باب: تکبیر کے بعد کیا پڑھیں
- باب:نماز میں قرأءت
- باب :رکوع
- باب:سجدہ اوراس کی بزرگی
- باب :التحیات
- باب :نبی صلی الله علیہ وسلم پر درود پڑھنے کی فضیلت
- باب :التحیات میں دعا
- باب : نماز کے بعد ذکر
- باب :نماز میں کون سے کام ناجائز اور کون سے کام مباح(جائز) ہیں
- باب: بھولنے کا بیان
- باب : قرآنی سجدے
- باب : ممانعت کے اوقات
- باب : جماعت اور اس کی فضیلت
- باب : صف سیدھی کرنا
- باب : جگہ کا بیان
- باب : امامت کا بیان
- باب : امام پر لازم امور
- باب : مقتدی پر پیروی واجب ہونے اور مسبوق ہونے كا حکم
- باب : دوبار نماز پڑھنے والے کا بیان
- باب : سنتیں اور ان کی فضیلت
- باب : رات کی نماز
- باب : جب رات میں اٹھے تو کیا کہے
- باب : رات میں اٹھنے کی ترغیب
- باب : عمل میں میانہ روی
- باب : وتر کا بیان
- باب : قنوت کا بیان
- باب : ماہ رمضان میں قیام
- با ب : چاشت کی نماز
- باب : نوافل کا بیان
- باب : تسبیح کی نماز
- باب : سفر کی نماز
- باب : جمعہ کا بیان
- باب : جمعہ واجب ہونے کا بیان
- باب : صفائی کرنا اورنماز جمعہ کیلئے جلدی جانے کا بیان
- باب : خطبہ اور نماز
- باب : خوف کی نماز
- باب : عیدین کی نماز
- باب : قربانی کابيان
- باب : عتیرہ کابیان
- باب : گرہن کی نماز
- باب : سجدۂ شکر کا بیان
- باب :بارش مانگنے کابیان
- باب : ہواؤں کا بیان
-
- باب:ارکان حج
- باب:احرام باندھنے تلبیہ کہنے کا باب
- باب :وداعی حج کا قصہ
- باب: مکہ کا داخلہ اور طواف
- باب: عرفہ میں ٹھہرنا
- باب: عرفہ اور مزدلفہ سے روانگی
- باب:رمی جمروں کی
- باب:ہدی کا باب
- باب:سر منڈانے کا باب
- باب:متفرقات
- باب: بقر عید کے دن کا خطبہ اور تشریق کے دنوں کی رمی اور رخصتی طواف
- باب: جن چیزوں سے محرم بچے
- باب :محرم شکار سے بچے
- باب: روکے اور حج چھوٹ جانے کا باب
- باب: مکہ معظمہ حرم اللّٰه اس کی حفاظت فرمائے
- باب :مدینہ منورہ کا حرم اللّٰہ اسے محفوظ رکھے
-
- باب: کمائی کرنا اور حلال روزی تلاش کرنا
- باب: معاملہ میں نرمی کرنا
- باب: اختیار کا باب
- باب:سود کا باب
- باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی
- باب:ممنوعہ تجارتوں کے متعلق بیان
- باب: سلم اور گروی کا باب
- باب:غلہ روکنے کا بیان
- باب: دیوالیہ کرنا اور مہلت دینا
- باب:شرکت اور وکالت کا باب
- باب:مال ہتھیا لینے اور مانگ کر لینے کا باب
- باب:شفعہ کا باب
- باب:پانی دینے اور کھیتی کرانے کا باب
- باب: کرایہ کا باب
- باب: بنجر زمین کا آباد کرنا اور پانی دینا
- باب: بخششوں کا باب
- باب : پچھلے باب کا تتمہ
- باب: پائی ہوئی چیز کا باب
- باب: میراث کے حصّے
- باب:وصیتوں کا باب
-
- باب:نکاح کا بیان
- باب :جس عورت کو پیغام دیا جائے اسے دیکھ لینااور ستر کا بیان
- باب : نکاح میں ولی کا بیان اور عورت سے اجازت لینے کا بیان
- باب:نکاح کا اعلان،خطبہ اورشرط کا بیان
- باب:حرام عورتوں کابیان
- باب:صحبت کرنے کا بیان
- باب: متفرق احادیث
- باب:مہر کا بیان
- باب:ولیمہ کا بیان
- باب:باری کا بیان
- باب:بیویوں سے رفاقت کا بیان اور ہر ایک کے حقوق کیا ہیں
- باب:خلع اور طلاق کا بیان
- باب:تین طلاق دی ہوئی عورت کا بیان
- باب:ہر کفارہ میں مؤمن غلام ہی آزاد کیا جائے نہ کہ کافر
- باب:لعان کا بیان
- باب:عدت کا بیان
- باب:استبراء کا بیان
- باب:خرچوں اور مملوکہ کے حق کا بیان
- باب:بچہ کی جوانی اور لڑکپن میں اس کی پرورش کا بیان
-
- باب:جہاد کا بیان
- باب:جہاد کے آلات تیار کرنے کا بیان
- باب :سفر کے آداب و طریقے
- باب:کفار کو فرمان لکھنا اور انہیں اسلام کی طرف دعوت دینا
- باب: جہاد میں قتل
- باب: قیدیوں کا حکم
- باب: امان کا بیان
- باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان
- باب:جزیہ کابیان
- باب:صلح کا بیان
- باب:جزیرہ عرب سے یہودیوں کے نکالنے کا بیان
- باب:فئ کا بیان
-
- باب:سلام کا باب
- باب:اجازت لینے کا بیان
- باب:مصافحہ کرنے گلے لگنے کا باب
- باب:کھڑے ہونے کا باب
- باب:بیٹھنے سونے اور چلنے کا باب
- باب: چھینک اور جمائی کا بیان
- باب: ہنسنے کا باب
- باب:ناموں کا بیان
- باب:وعظ و شعر کا بیان
- باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان
- باب:وعدے کاباب
- باب:خوش طبعی کا بیان
- باب: فخر اور تعصب کا بیان
- باب:نیکی اور صلہ رحمی کا بیان
- باب:مخلوق پر شفقت و رحمت کا بیان
- باب:الله کی راہ میں محبت اور الله کی محبت کا بیان
- باب: اس کا بیان کہ مسلمانوں کو چھوڑے رکھنا ان کا بائیکاٹ کرنا اورچھپے عیوب کی تلاش ممنوع ہے
- باب:احتیاط کرنے اور کاموں میں اطمینان کا بیان
- باب:نرمی و شرم وغیرت اور اچھی عادت کا بیان
- باب:غصہ اورغرور کا بیان
- باب:ظلم کا بیان
- باب :نیک باتوں کا حکم دینا
-
- باب: دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان
- باب : فقیروں کی بزرگی کا بیان ۱؎ اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی زندگی شریف کیسی تھی ۲؎
- باب : امید اور حرص کا بیان
- باب : اطاعت کے لیے مال اور عمر کا بہتر ہونا
- باب : توکل اور صبر کا بیان
- باب : دکھلاوے اور شہرت کا بیان
- باب : رونے اور ڈرنے کا بیان
- باب : لوگوں میں تبدیلی کا بیان
- باب : متفرقات و ملحقات کا بیان
-
- باب:فتنوں کا بیان
- باب : لڑائیوں کا بیان
- باب : قیامت کی علامتوں کا بیان
- باب : قیامت کے سامنے والی علامات اور دجّال کا بیان
- باب : ابن صیاد کا قصہ
- باب : عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری
- باب : قیامت کا قریب ہونا اور جو مر گیا تو اس کی قیامت قائم ہوگئی
- باب : قیامت قائم نہ ہوگی مگر بد ترین لوگوں پر
- باب : صور پھونکے جانے کا بیان
- باب : حشر کا بیان
- باب : حساب،بدلہ،ترازو کا بیان
- باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎
- باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان
- باب : الله تعالٰی کے دیدار کا بیان
- باب : آگ اور آگ والوں کا بیان
- باب : جنت اور دوزخ کی پیدائش
- باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر
-
- باب:کرامات کا بیان
- باب:صحابہ کرام کی ہجرت مدینہ اور حضور صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے مقدمات
- باب: حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا تتمہ
- باب:قریش کے فضائل اور قبائل کے ذکر کا بیان
- حضرات صحابہ کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر صدیق کے فضائل
- باب:حضرت عمر کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے فضائل
- باب:حضرت عثمان کے فضائل رضی اللہ عنہ
- باب:ان تینوں کے فضائل
- باب:حضرت علی ابن ابی طالب رضی الله عنہ کے فضائل
- باب:دس صحابہ کے فضائل رضی اللہ عنہم
- باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین
- باب:نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے فضائل
- باب: منقبتوں کا مجموعہ
- باب:اس امت کے ثواب کا بیان
- باب:یمن اور شام کا ذکر ۱؎اور اویس قرنی کا تذکرہ ۲؎
حدیث مبارکہ
عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ: جَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: عَلِّمْنِي عَمَلًا يُدْخِلُنِي الْجَنَّةَ قَالَ: "لَئِنْ كُنْتَ أَقْصَرْتَ الْخُطْبَةَ لَقَدْ أَعْرَضْتَ الْمَسْأَلَةَ، أَعْتِقِ النَّسَمَةَ وَفُكَّ الرَّقَبَةَ" قَالَ: أَوَلَيْسَا وَاحِدًا؟ قَالَ: "لَا، عِتْقُ النَّسَمَةِ: أَنْ تَفَرَّدَ بِعِتْقِهَا، وَفَكُّ الرَّقَبَةِ: أَنْ تُعِينَ فِي ثَمَنِهَا، وَالْمِنْحَةَ: الْوَكُوفَ، وَالْفَيْءَ عَلَى ذِي الرَّحِمِ الظَّالِمِ، فَإِنْ لَمْ تُطِقْ ذَلِكَ فَأَطْعِمِ الْجَائِعَ، وَاسْقِ الظَّمْآنَ، وَأْمُرْ بِالْمَعْرُوفِ، وَانْهَ عَنِ الْمُنْكَرِ، فَإِنْ لَمْ تُطِقْ ذَلِكَ فَكُفَّ لِسَانَكَ إِلَّا مِنْ خَيْرٍ". رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ فِي "شُعَبِ الإِيمَانِ".
عن البراء بن عازب قال: جاء أعرابي إلى النبي صلى الله عليه وسلم فقال: علمني عملا يدخلني الجنة قال: "لئن كنت أقصرت الخطبة لقد أعرضت المسألة، أعتق النسمة وفك الرقبة" قال: أوليسا واحدا؟ قال: "لا، عتق النسمة: أن تفرد بعتقها، وفك الرقبة: أن تعين في ثمنها، والمنحة: الوكوف، والفيء على ذي الرحم الظالم، فإن لم تطق ذلك فأطعم الجائع، واسق الظمآن، وأمر بالمعروف، وانه عن المنكر، فإن لم تطق ذلك فكف لسانك إلا من خير". رواه البيهقي في "شعب الإيمان".
حدیث ترجمہ
روایت ہے حضرت براء ابن عازب سے فرماتے ہیں کہ ایک بدوی نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں آیا بولا مجھے ایسا عمل سکھائیے جو مجھے جنت میں پہنچادے ۱؎فرمایا اگرچہ تو نے کلام مختصر کیا ہے مگر سوال وسیع کیا ۲؎غلام آزاد کرو اور گردن چھوڑاؤ۳؎وہ بولا کیا یہ دونوں ایک نہیں ۴؎فرمایا نہیں غلام آزاد کرنا یہ ہے کہ تو اس کی آزادی میں اکیلا ہو اور گردن چھوڑانا یہ ہے کہ تو اس کی قیمت میں مدد کرے ۵؎اور کچھ دودھ خیرات کر ۶؎اور ظالم قرابتدار پر رجوع کر ۷؎پس اگر تو اس کی طاقت نہ رکھے تو بھوکے کو کھانا دے اور پیاسے کو پانی اور بھلائی کا حکم کر اور برائی سے منع کرو ۸؎اگر تو اس کی بھی طاقت نہ رکھے تو اپنی زبان کی حفاظت کر سوائے بھلائی کے ۹؎(بیہقی شعب الایمان)
شرح حدیث
۱∞؎یعنی اس عمل کی برکت سے اﷲتعالٰی مجھے اول سے ہی جنت میں پہنچادے، دوزخ کی سزا دے کر نہ پہنچائے یا اسناد مجازی ہے یعنی وہ عمل جنت میں اولیٰ داخلہ کا سبب ہو۔اس سے معلوم ہوا کہ اسناد مجازی جائز ہے لہذا یہ کہہ سکتے ہیں کہ رسول اﷲصلی اللہ علیہ و سلم دوزخ سے بچاتے ہیں جنت میں پہنچاتے ہیں ، جب ایک عمل جنت میں پہنچاسکتا ہے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جو اس عمل سے کہیں افضل ہیں ضرور پہنچاسکتے ہیں۔
۲؎یا تولئنبمعنیوانہے بمعنی اگرچہ،جیساکہ اشعۃ اللمعات میں اختیار کیا یا لام قسم کا ہے اورانشرطیہ،اس صورت میںلقد عرضتشرط کی جزاء پہلی صورت میں تو عبارت کے وہ معنی ہیں جو ہم نے عرض کیے،دوسری صورت میں معنی یہ ہیں قسم ہے کہ تو نے اگر کلام چھوٹا کیا ہے تو مسئلہ بڑا پیش کیا ہے حضور نے سائل کی تعریف فرمائی کہ تو کلام چھوٹا کرتا ہے چیز بڑی مانگتا ہے جنتی ہوجانا معمولی بات نہیں،یہ آخری معنی مرقات نے کئے۔
۳؎یہ ہے اس کی عرض و معروض کا جواب اورلئنالخ جملہ معترضہ ہےنسمہن و س کے فتحہ سے بمعنی روح و جان،کبھی نفس و ذات کو بھی کہہ دیتے ہیں یعنی روح والی ذات یہاں اسی معنے میں،اس سے مراد غلام یا لونڈی ہے،یوں ہی رقبہ اگرچہ گردن کو کہتے ہیں مگر مراد ہے گردن والا یعنی انسان۔
۴؎یعنی حضور نے فرمایاوفك الرقبۃواؤ عاطفہ سے معلوم ہوتا ہے کہ عتق اور چیز ہے فک اور چیز مگر مجھے معلوم ہوتا ہے کہ دونوں ایک ہیں،ممکن ہے کہ واؤ بمعنیاوہو یعنی یا غلام آزاد کر یا پھنسی گردن چھڑا۔
۵؎سبحان اﷲ!یہ ہے اس سید الکونین افصح العرب کی فصاحت و بلاغت کہ عتق سے مراد ہے آزاد کرنا،آزاد وہ ہی کرے گا جو مالک ہوگا لہذا اس کے معنی ہوئے اپنا غلام آزاد کرنا،اور فک کے بمعنی ہیں پھنسی گردن چھوڑانا یعنی کسی اور کا غلام ہے اس نے اسے مکاتب کردیا ہے،یہ مال ادا کرنے پر قادر نہیں،اس کی گردن پھنسی ہے تواس کی کلی یا بعض قیمت ادا کرکے آزاد کرادے۔
۶؎منحہ میم کے کسرہ نون کے جزم سے بمعنی عطیہ،اب اس دودھ والے جانور کو منحہ کہتے ہیں۔جو کسی کو دودھ پینے کے لیے عاریۃً دیا جائے اونٹنی یا بکری گائے وغیرہ۔وکوف و کفسے ہے بمعنی قطرے ٹپکنا،کہا جاتا ہےوکف السقفبارش میں چھت ٹپکی،اس سے مراد بہت دودھ دینے والی اونٹنی بکری وغیرہ ہے جس کا دودھ ٹپکتا ہو زیادتی کی وجہ سے،یہ عبارت مبتداء ہے اس کی خبرخیرپوشیدہ یعنی بہت دودھ والے جانور کا عاریۃً دے دینا بھی بہت ہی اچھا عمل ہے جنت میں پہنچانے والا،یاالمنحۃمنصوب ہے فعل پوشیدہ کا مفعول۔
۷؎یعنی تیرا عزیز قرابتدار اگر تجھ پر ظلم کرے مگر تو اس پر مہربانی سے رجوع کرے یہ بھی جنتی ہونے کا عمل ہے۔(اشعہ)یا جو تیرا عزیز قرابتدار دوسروں پر ظلم کرے تو تو اس کی قرابت ومحبت واپس کردے ، اس سے تعلق توڑ دے تاکہ وہ اس حرکت سے توبہ کرے ،محض قرابتدار ی کی وجہ سے اس کی حمایت نہ کر۔(مرقات)
۸؎یعنی لوگوں پر ظاہری و باطنی احسان کر،کھانا پانی ظاہری احسان ہے جس سے جسم کی پرورش ہے اور برائی سے روکنا بھلائی کا حکم دینا باطنی احسان جس سے دل و دماغ کی پرورش ہے۔
۹؎اس طرح کہ زبان سے بری بات جھوٹ غیبت گالی وغیرہ نہ نکالو۔یہاں خیر شر کا مقابل ہے لہذا اس خیر میں جائز و مباح کلام بھی داخل ہے۔علماء فرماتے ہیں کہ بہترین عمل یہ ہے کہ کثرت سکوت،لزوم البیوت،قناعۃ بالقوت الی ان یموت یعنی دراز خاموشی، اکثر گھر میں رہنا،تا حیات تھوڑے پر قناعت کرنا۔
ماخذ و مراجع
کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3384