Main Icon

باب :مسافر کا روزہ - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2023

روزے کا بیان - جلد 3

حدیث مبارکہ

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: خَرَجَ رَسُولُ اللّٰهِ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- مِنَ الْمَدِينَةِ إِلَى مَكَّةَ، فَصَامَ حَتَّى بَلَغَ عُسْفَانَ، ثُمَّ دَعَا بِمَاءٍ فَرَفَعَهُ إِلَى يَدِهِ لِيَرَاهُ النَّاسُ فَأَفْطَرَ حَتَّى قَدِمَ مَكَّةَ، وَذٰلِكَ فِي رَمَضَانَ. فَكَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ يَقُولُ: قَدْ صَامَ رَسُولُ اللّٰهِ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- وَأَفْطَرَ، فَمَنْ شَاءَ صَامَ وَمَنْ شَاءَ أفْطَرَ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

وعن ابن عباس قال: خرج رسول الله -صلی اللہ عليه وسلم- من المدينة إلى مكة، فصام حتى بلغ عسفان، ثم دعا بماء فرفعه إلى يده ليراه الناس فأفطر حتى قدم مكة، وذلك في رمضان. فكان ابن عباس يقول: قد صام رسول الله -صلی اللہ عليه وسلم- وأفطر، فمن شاء صام ومن شاء أفطر. متفق عليه.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ سے مکہ معظمہ تشریف لے گئے ۱؎تو روزے رکھتے رہے حتی کہ عسفان پہنچ گئے ۲؎پھر پانی منگایا تو اسے اپنے ہاتھ میں اٹھایا ۳؎تاکہ آپ کو لوگ دیکھ لیں۴؎پھر افطار فرماتے رہے حتی کہ مکہ معظمہ آگئے ۵؎اور یہ واقعہ رمضان میں تھا ۶؎چنانچہ حضرت ابن عباس فرماتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سفر میں روزہ بھی رکھا ہے اور افطار بھی کیا ہے تو جو چاہے روزہ رکھے اور جو چاہے افطارکرے ۷؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎فتح مکہ کے سال۔خیال رہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگ بدر اور فتح مکہ کے موقعوں پر رمضان میں سفر کیا ہے ان دو سفروں کے علاوہ اور کبھی رمضان میں سفر ثابت نہیں۔(مرقات)وہ جو روایتوں میں آتا ہے کہ ہم ایک بار سخت گرمی میں سفر جہاد میں تھے حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کے سواء ہم میں کوئی روزہ دار نہ تھا وہاں رمضان کا ذکر نہیں۔
۲
؎عسفان مکہ معظمہ سے مدینہ طیبہ کے راستہ پر دوسری منزل ہے،مشہور جگہ ہے۔
۳
؎یہالیٰبمعنیفیہے جیسے"لَیَجْمَعَنَّکُمْ اِلٰی یَوْمِ الْقِیٰمَۃِ"اور ہوسکتا ہے کہ بمعنیمعہوجیسے"مَنْ اَنۡصَارِیۡۤ اِلَی االلهِ"یا جیسے"لَا تَاۡکُلُوۡۤا اَمْوٰلَہُمْ اِلٰۤی اَمْوٰلِکُمْاورممکن ہے کہ بمعنیعَلٰیہو اور ہوسکتا ہے کہ اپنے ہی معنے میں ہو یعنی انتہاء کے لیے اور اصل عبارت یوں ہواِلٰی مَدِّیَدِہٖیعنی پانی کا پیالہ اپنے ہاتھ میں اٹھایا یااپنے ہاتھ پر یا دست مبارک کے ساتھ پیالہ بھی اوپر اٹھایا یا پیالہ ہاتھ میں لے کر ہاتھ پورا بلندکردیا،اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ!عبارت میں کوئی اشکال نہ رہا۔
۴
؎یہ لوگوں کو دکھانا ماہ رمضان کی بے حرمتی کے لیے نہ تھا بلکہ لوگوں کو مسئلہ بتانے کے لیے کیونکہ وہاں سب ہی مسافر تھے۔اس سے معلوم ہوا کہ مسافر راستہ میں مسافروں کے ساتھ رمضان میں علانیہ کھاسکتا ہے۔
۵
؎بعض شارحین نےاَفْطَرَکے معنے یہ سمجھے کہ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم نے روزہ رکھ کر توڑ دیا،اسی بنا پر انہوں نے فرمایا کہ مسافر کو رمضان میں روزہ رکھ کر توڑ دینا بھی جائز ہے مگر یہ غلط ہے۔اَفْطَرَکے وہی معنے ہیں جو فقیر نے عرض کئے ورنہ ابھی حدیثوں میں گزر چکا کہ بعض صحابہ سفر جہاد میں روزہ کی وجہ سے بے ہوش ہوکر گر گئے،ان پر صحابہ نے سایہ تو کیا مگر حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں روزہ توڑنے کی اجازت نہ دی۔
۶
؎یعنی نبی صلی اللہ علیہ وسلم فتح مکہ کے لیے۲ رمضان ۸ھ میں بعدعصر مدینہ منورہ سے روانہ ہوئے۔ (مرقات)اور بیس رمضان کو مکہ معظمہ فتح ہوا،بعض مؤرخین نے دسویں۱۰ رمضان کو روانگی بیان کی ہے۔
۷
؎بعض شیعہ سفر میں روزہ مطلقًا ناجائز کہتے ہیں اور اس قول کو سیدنا عبد اللہ ابن عباس کیطرف منسوب کرتے ہیں مگر یہ درست نہیں،حضرت ابن عبا س کا قول وہ ہے جو یہاں منقول ہوا۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 3 , حدیث نمبر: 2023