Main Icon

باب :مسافر کا روزہ - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2029

روزے کا بیان - جلد 3

حدیث مبارکہ

وَعَنْ حَمْزَةَ بْنِ عَمْرٍو الأسْلَمِيِّ أَنَّهُ قَالَ: يَا رَسُولَ اللّٰهِ! إنِّي أَجِدُ بِي قُوَّةً عَلَى الصِّيَامٍ فِي السَّفَرِ، فَهَلْ عَلَيَّ جُنَاحٌ؟ قَالَ: "هِيَ رُخْصَةٌ مِنَ اللّٰهِ عزَّ وجلَّ، فَمَنْ أَخَذَ بِهَا فحَسَنٌ، وَمَنْ أَحَبَّ أَنْ يَصُومَ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.

وعن حمزة بن عمرو الأسلمي أنه قال: يا رسول الله! إني أجد بي قوة على الصيام في السفر، فهل علي جناح؟ قال: "هي رخصة من الله عز وجل، فمن أخذ بها فحسن، ومن أحب أن يصوم فلا جناح عليه". رواه مسلم.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت حمزہ ابن عمرو اسلمی سے انہوں نے عرض کیا یارسولمیں اپنے اندر سفر میں روزہ کی طاقت رکھتا ہوں تو کیا مجھ پر گناہ ہے فرمایا وہ توعزوجل کی طرف سے رخصت ہے جو اسے قبول کرے تو اچھا ہے اور جو روزہ رکھنا پسند کرے تو اس پر گناہ نہیں ۱؎(مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎یہ حدیث گزشتہ احادیث کی تفسیر ہے کہ سفر میں روزہ رکھنے کی بھی اجازت ہے اور نہ رکھنے کی بھی۔یہاں ایک اعتراض ہے وہ یہ کہ بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ مسافر کو روزہ نہ رکھنا بہتر،رکھنا خلاف اولیٰ کیونکہ سرکار نے نہ رکھنے کو حسن فرمایا اور رکھنے کولَا جُنَاحَ۔جواب یہ ہے کہ عرب کے سفر خصوصًا گرمی کے موسم کے عمومًا دشوار ہوتے تھے اور ان میں روزہ سخت تکلیف کا باعث، بعض لوگ اندازہ میں غلطی کرکے روزہ رکھ لیتے تھے اور پھر بڑی مشقت جھیلتے تھے اس لیے فرمایا گیا کہ ان حالات میں روزہ نہ رکھنا ہی بہتر لہذا یہ حدیث اس حدیث کے خلاف نہیں جس میں روزے کو افضل قرار دیا گیا ورنہ عام حالات میں بحالت سفر روزہ رکھ لینا ہی بہترہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 3 , حدیث نمبر: 2029