Main Icon

باب :مسافر کا روزہ - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2020

روزے کا بیان - جلد 3

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: غَزَوْنَا مَعَ رَسُولِ اللّٰهِ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- لَسِتَّ عَشْرَةَ مَضَتْ مِنْ شَهْرِ رَمَضَانَ، فَمِنَّا مَنْ صَامَ وَمِنَّا مَنْ أَفْطَرَ،فَلَمْ يَعِبِ الصَّائِمُ عَلَى الْمُفْطِرِ، وَلَا الْمُفْطِرُ عَلَى الصَّائِم. رَوَاهُ مُسْلِمٌ.

وعن أبي سعيد الخدري قال: غزونا مع رسول الله -صلی اللہ عليه وسلم- لست عشرة مضت من شهر رمضان، فمنا من صام ومنا من أفطر،فلم يعب الصائم على المفطر، ولا المفطر على الصائم. رواه مسلم.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابو سعید خدری سے فرماتے ہیں ہم نے رسولصلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جہاد کیا جب کہ ماہ رمضان کے سولہ دن گزر گئے تھے ۱؎تو ہم میں سے بعض نے روزہ رکھا اور بعض وہ تھے جنہوں نے افطار کیا تو نہ روزہ داروں نے بے روزوں کو عیب لگایا اور نہ بے روزوں نے روزہ داروں کو ۲؎(مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎بعض لوگ کہتے ہیں کہ اگر کوئی درمیان رمضان میں سفر کرے تو اسے افطار جائز نہیں اس پر روزہ ہی فرض ہے،افطار کی اجازت صرف اسے ہے جسے بحالت سفر رمضان شرو ع ہو۔اس حدیث میں ان کی کھلی تردید ہے،دیکھو سولہ رمضان کو سفر شروع ہوا اور بعض صحابہ نے روزے نہ رکھے۔
۲
؎یہ حدیث بظاہر ان علماء کی دلیل ہے جو سفر میں روزہ رکھنے نہ رکھنے کو یکساں کہتے ہیں کسی کو ترجیح نہیں دیتے مگر یہ استدلال ضعیف ساہے کیونکہ یہاں عیب لگانے کی نفی ہے ترک مستحب پر نہ عیب لگایاجاتاہے نہ اعتراض ہوتا ہے۔خیال رہے کہ اس غزوہ میں حالات معمول پر ہوں گے ورنہ بحالت جنگ روزہ نہ رکھنا بہتر ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 3 , حدیث نمبر: 2020