Main Icon

باب :مسافر کا روزہ - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2021

روزے کا بیان - جلد 3

حدیث مبارکہ

وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللّٰهِ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- فِي سَفَرٍ فَرَأَى زِحَامًا وَرَجُلًا قَدْ ظُلِّلَ عَلَيْهِ، فَقَالَ: "مَا هٰذَا؟ " قَالُوا: صَائِمٌ، فَقَالَ: "لَيْسَ مِنَ الْبِرِّ الصَّوْمُ فِي السَّفَرِ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

وعن جابر قال: كان رسول الله -صلی اللہ عليه وسلم- في سفر فرأى زحاما ورجلا قد ظلل عليه، فقال: "ما هذا؟ " قالوا: صائم، فقال: "ليس من البر الصوم في السفر". متفق عليه.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت جابر سے فرماتے ہیں کہ رسولصلی اللہ علیہ وسلم ایک سفر میں تھے تو لوگوں کی بھیڑ دیکھی اور ایک شخص کو ملاحظہ کیا جس پر سایہ کیا گیا تھا ۱؎فرمایا یہ کیا ہے لوگوں نے کہا ایک روزہ دار ہے فرمایا سفر میں یوں روزہ رکھنا بھلائی نہیں ۲؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎ان صاحب کا نام قیس یا قیصر ہے،کنیت ابو اسرائیل ہے،گرمی سخت تھی،سفر کی حالت تھی،غزوہ تبوک کا موقعہ تھا،جب کہ لشکر اسلام میں کھانے کی بھی کمی تھی،یہ ایک درخت کے پاس ٹھہرے ہوئے تھے،بغیر سحری کا روزہ منہ میں تھاکہ بے ہوش ہو کر گر گئے،صحابہ کرام نے اپنی چادروں سے سایہ کرلیا یا ان پر خیمہ لگادیا کیونکہ عرب کے عام درختوں کا سایہ کافی نہیں ہوا کرتا۔(ازمرقات ولمعات)
۲
؎بلکہ برا ہے یا توالصوممیں الف لام عہدخارجی ہے یا سفر میں یا دونوں میں یعنی ایسے سخت سفر میں ایسا بے سرور سامانی کا روزہ بھلائی نہیں بلکہ برا ہے اور رب تعالٰی کے اس فرمان کے خلاف ہے"یُرِیۡدُ اللہُ بِکُمُ الْیُسْرَ وَلَا یُرِیۡدُ بِکُمُ الْعُسْر" لہذا یہ حدیث اس کے خلاف نہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے سال سفر میں روزے رکھے۔یہاں مرقات نے فرمایا کہ صالحین کی خدمت نوافل سے افضل ہے یعنی یہ صاحب اگر روزہ نہ رکھتے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کی خدمت کرتے، اب روزہ رکھ کر خود جلیل القدر صحابہ سے خدمت لینے لگے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 3 , حدیث نمبر: 2021