Main Icon

باب :مسافر کا روزہ - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2026

روزے کا بیان - جلد 3

حدیث مبارکہ

وَعَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْمُحَبَّقِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "مَنْ كَانَ لَهٗ حَمُولَةٌ تَأْوِي إِلَى شِبْعٍ فَلْيَصُمْ رَمَضَانَ حَيْثُ أدْرَكَهُ" رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ.

وعن سلمة بن المحبق قال: قال رسول الله -صلی اللہ عليه وسلم-: "من كان له حمولة تأوي إلى شبع فليصم رمضان حيث أدركه" رواه أبو داود.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت سلمہ ابن محبق سے ۱؎فرماتے ہیں فرمایا رسولصلی اللہ علیہ وسلم نے جس کے پاس سواری ہو جو اسے بحالت سیری منزل تک پہنچادے ۲؎وہ رمضان کے روزے رکھے جہاں پائے ۳؎(ابوداؤد)۴؎

شرح حدیث

۱∞؎آپ خود بھی صحابی ہیں اور آپ کے بیٹے سنان ابن سلمہ بھی صحابی،سنان بڑے پہلوان تھے،بہت سے غزوات میں حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہے۔
۲
؎یعنی آرام و آسائش سے منزل پر افطار سے پہلے پہنچ جائے یا اس کا سامان خورد و نوش ساتھ ہو تو وہ سفر میں روزہ قضا نہ کرے بلکہ تمام مسلمانوں کی موافقت میں روزے رکھے۔
۳
؎یہ حکم استحبابی ہے یعنی آرام کے سفر میں روزہ رکھ لینا بہتر ہے قضا کردینا مناسب نہیں۔آج کل ریل و موٹر کے سفروں میں تو بہت آسانیاں ہیں ان سفروں میں روزہ رکھنا ہی اچھا ہے۔
۴
؎اس حدیث کی اسناد میں عبدالصمد ابن حبیب ازدی ہے اکثر محدثین کے ہاں قوی نہیں ہے لہذا یہ حدیث ضعیف ہے مگر فضائل اعمال میں حدیث ضعیف قبول ہے جیساکہ بار ہا عرض کیا گیا،یہاں بھی فضیلت عمل ہی کا ذکر ہے یعنی آسان سفر میں روزہ رکھ لینا بہتر ہے لہذا قبول ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 3 , حدیث نمبر: 2026