Main Icon

باب :نماز میں کون سے کام ناجائز اور کون سے کام مباح(جائز) ہیں - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1004

نماز کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : «اقْتُلُوا الْأَسْوَدَيْنِ فِي الصَّلَاةِ الْحَيَّةَ وَالْعَقْرَبَ».رَوَاهُ أَحْمدُ وَالتِّرْمِذِيْ وَأَبُو دَاوُدَ وَلِلنَّسَائِيِّ مَعْنَاهُ

وعن أبي هريرة رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : «اقتلوا الأسودين في الصلاة الحية والعقرب».رواه أحمد والترمذي وأبو داود وللنسائي معناه

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابو ہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ نماز میں دو کالی چیزوں سانپ اور بچھو کو قتل کردو ۱؎(احمد،ابوداؤد) ترمذی اور نسائی نے اس کے معنے۔

شرح حدیث

۱∞؎عربی میں اسود کالے سانپ کو کہتے ہیں یا مطلقًا ہر سانپ مراد ہے اور تغلیبًا سانپ بچھو،دونوں کواَسْوَدَ یْنفرمادیا جیسے ماں باپ کواَبَوَیْناور چاند سورج کوقَمَرَ یْنکہہ دیتے ہیں اگر نمازی بحالت نماز سانپ یا بچھو دیکھے تو اسے مار سکتا ہے اگر عمل قلیل سے مار دیا تو نماز نہ ٹوٹے گی اور اگر اس کے لیئے کعبہ سے سینہ پھر گیا یا متواتر تین قدم چلنا پڑا یا تین چوٹیں مارنی پڑیں تو نماز ٹوٹ جاوے گی دوبارہ پڑھنی ہوگی مگر یہ شخص نماز توڑ نے کا گنہگار نہ ہوگا اس حدیث کی اجازت کی وجہ سے کسی کی جان بچانے کے لیئے نماز توڑ دینا درست ہے یا ریل چھوٹ جانے پر مسافر نماز توڑ کر سوار ہوسکتا ہے۔ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ ہرقسم کا سانپ مارنے کی اجازت ہے۔وہ حدیث کہ پتلا سانپ نہ مارو جو چلنے میں لہراتا نہ ہو کیونکہ وہ جنی ہے منسوخ ہے،ہاں اگر کسی سانپ میں جن کی علامت موجود ہو تو اگر دفع ضررکے لیئے اسے نہ مارے تو کوئی مضائقہ نہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1004