Main Icon

باب :نماز میں کون سے کام ناجائز اور کون سے کام مباح(جائز) ہیں - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 985

نماز کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : «إِذَا تَثَاءَبَ أَحَدُكُمْ فَلْيَكْظِمْ مَا اسْتَطَاعَ فَإِنَّ الشَّيْطَانَ يَدْخُلُ» . رَوَاهُ مُسْلِمٌ

وعن أبي سعيد الخدري قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : «إذا تثاءب أحدكم فليكظم ما استطاع فإن الشيطان يدخل» . رواه مسلم

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوسعید خدری سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ جب تم میں سے کوئی نماز میں جمائی لے تو جہاں تک ہوسکے دفع کرے کیونکہ شیطان داخل ہوجاتا ہے ۱؎(مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎جمائی دفع کرنے کی تین صورتیں ہیں:ایک یہ کہ جمائی آتے وقت یہ سوچ لے کہ انبیاء کرام کو جمائی نہیں آتی تھی۔دوسرے یہ کہ نچلا ہونٹ دانت سے دبالے۔تیسرے یہ کہ ناک سے زور کے ساتھ سانس نکالے اگر دفع نہ ہوسکے تو بائیں ہاتھ کی انگلیوں کی پشت منہ پر رکھ لے

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 985