Main Icon

باب :نماز میں کون سے کام ناجائز اور کون سے کام مباح(جائز) ہیں - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 988

نماز کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «مَنْ نَابَهٗ شَيْءٌ فِي صَلَاتِهٖ فَلْيُسَبِّحْ فَإِنَّمَا التَّصْفِيقُ لِلنِّسَاءِ»وَفِي رِوَايَةٍ: قَالَ: «التَّسْبِيحُ لِلرِّجَالِ وَالتَّصْفِيْقُ لِلنِّسَاءِ»(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وعن سهل بن سعد قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم «من نابه شيء في صلاته فليسبح فإنما التصفيق للنساء»وفي رواية: قال: «التسبيح للرجال والتصفيق للنساء»(متفق عليه)

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت سہل ابن سعد سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ جسے نماز میں کوئی چیز پیش آجائے تو تسبیح پڑھے کیونکہ تالی عورتوں کے لیے ہے ایک روایت میں ہے کہ فرمایا تسبیح مردوں کے لیے ہے اور تالی عورتوں کے لیے ۱؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی اگر نمازی کو کوئی ایسا حادثہ پیش آجائے جس سے اسے بولنا پڑے مثلًا اسے کوئی پکار رہا ہے یا کوئی بے خبری میں سامنے سے گزرنا چاہتا ہے تو مرد تو زور سےسُبْحَانَ اللّٰهِکہہ دے اور عورت بائیں ہاتھ کی پشت پر داہنی ہتھیلی مار دے تاکہ پکارنے والے اور گزرنے والے کو اسکا نماز میں ہونا معلوم ہوجائے۔اس سے معلوم ہوا کہ عورت کی آوا ز بھی عورت ہے نامحرم نہ سنے افسوس ان عورتوں پر جو گابجا کر اپنی آواز یں غیروں کو سنائیں۔خیال رہے کہ اگر نمازی عورت کا محرم بھی اسے پکارے یا سامنے سے گزرنے لگے تب بھی عورت تالی ہی بجائے کیونکہ اس کے لیئے قانون ہی یہ ہوگیا۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 988