Main Icon

باب :نماز میں کون سے کام ناجائز اور کون سے کام مباح(جائز) ہیں - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 991

نماز کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قُلْتُ لِبِلَالٍ: كَيْفَ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرُدُّ عَلَيْهِمْ حِيْنَ کَانُوْا يُسَلِّمُونَ عَلَيْهِ وَهُوَ فِي الصَّلَاةِ قَالَ: كَانَ يُشِيرُ بِيَدِهٖ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَفِي رِوَايَةِ النَّسَائِيِّ نَحْوَهٗ وَعِوَضُ بِلَالٍ صُهَيْبٌ

وعن ابن عمر قال: قلت لبلال: كيف كان النبي صلى الله عليه وسلم يرد عليهم حين کانوا يسلمون عليه وهو في الصلاة قال: كان يشير بيده. رواه الترمذي وفي رواية النسائي نحوه وعوض بلال صهيب

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت بلال سے کہا کہ نبی صلی الله علیہ وسلم انہیں جواب کیسے دیتے تھے جب صحابہ آپ کو نماز میں سلام کرتے تو فرمایا کہ اپنے ہاتھ سے اشارہ کردیتے تھے ۱؎(ترمذی) اور نسائی کی روایت میں اسی طرح ہے اور بجائے بلال کے صہیب ہے۔

شرح حدیث

۱∞؎شاید یہ اس وقت کا ذکر ہے جب کہ نماز میں زبانی سلام و جواب ممنوع ہوچکا تھا اشارے جائز تھے،پھر یہ بھی ممنوع ہوگیا۔چنانچہ خلاصۃ الفتاویٰ میں ہے کہ اگر نمازی سریا ہاتھ سے سلام کا جواب دے تو نماز ٹوٹ جائے گی۔ ظاہر یہ ہے کہ نماز فاسد نہ ہوگی مگر مکروہ ہوگی بہرحال اب اشارہ بھی منسوخ ہے اس حدیث سے ہی نسخ معلوم ہورہا ہے کیونکہ حضرت ابن عمر نے حضور علیہ السلام کو اشارہ کرتے دیکھا نہیں بلکہ سنا تھا،تو حضرت بلال سے پوچھا اگر اشارہ اخیر تک جاری رہتا تو آ پ دیکھ لیتے۔خیال رہے کہ سلام کے اشارے مختلف ہیں کبھی انگلی اٹھا کر کبھی پیشانی پر لگا کر کبھی داہنا ہاتھ الٹا کرکے یہاں تیسری صورت مراد ہے جیسا کہ ابوداؤد،ترمذی،نسائی کی احادیث میں ہے۔(اشعہ)

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 991