Main Icon

باب :نماز میں کون سے کام ناجائز اور کون سے کام مباح(جائز) ہیں - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 980

نماز کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ مُعَيْقِيبٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الرَّجُلِ يُسَوِّي التُّرَابَ حَيْثُ يَسْجُدُ قَالَ:«إِنْ كُنْتَ فَاعِلًا فَوَاحِدَةً» (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وعن معيقيب عن النبي صلى الله عليه وسلم في الرجل يسوي التراب حيث يسجد قال:«إن كنت فاعلا فواحدة» (متفق عليه)

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت معیقیب سے ۱؎وہ نبی کریم صلی الله علیہ وسلم سے راوی اس شخص کے بارے میں جو سجدے کی جگہ مٹی برابر کرے فرمایا اگر تمہیں کرنا ہے تو ایک بار ۲؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎آپ کا نام معیقیب ابن فاطمہ ہے،دوسی ہیں،سعد ابن عاص کے آزاد کردہ غلام ہیں،قدیم الاسلام ہیں،صاحب ہجرتین ہیں،حضور علیہ السلام کی انگوٹھی آپ کے پاس رہتی تھی،انہی سے حضرت صدیق اکبر نے حضور علیہ السلام کے بعد یہ انگوٹھی لی،آخر میں جذام میں مبتلا ہوگئے تھے،خلافت عثمانی یا حیدری میں وفات پائی رضی الله تعالٰی عنہ،دوسرے معیقیب تابعی ہیں وہ اور ہیں۔
۲
؎یعنی کسی نے حضور علیہ السلام سے مسئلہ پوچھا کہ نمازی بحالت نماز سجدہ کی جگہ سے کنکر کانٹا ہٹا سکتا ہے یا نہیں اور مٹی صاف کرسکتا ہے یا نہیں،فرمایا ضرورۃً ایک بار کرسکتا ہے۔اس سے فقہاء نے بہت سے مسائل مستنبط کیے ہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 980