Main Icon

باب :نماز میں کون سے کام ناجائز اور کون سے کام مباح(جائز) ہیں - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1006

نماز کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ طَلْقِ بْنِ عَلِيٍّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : «إِذَا فَسَا أَحَدُكُمْ فِي الصَّلَاةِ فَلْيَنْصَرِفْ فَلْيَتَوَضَّأْ وَلْيُعِدِ الصَّلَاةَ».رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَرَوَى التِّرْمِذِيْ مَعَ زِيَادَةٍ ونُقْصَانٍ

وعن طلق بن علي قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : «إذا فسا أحدكم في الصلاة فلينصرف فليتوضأ وليعد الصلاة».رواه أبو داود وروى الترمذي مع زيادة ونقصان

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت طلق ابن علی سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے جب تم میں سے کسی کو نماز میں ہوا آجائے تو پھر جائے وضو کرے نماز لوٹائے ۱؎(ابو داؤد)ترمذی نے کچھ زیادتی کمی کے ساتھ۔

شرح حدیث

۱∞؎اگر عمدًا ہوا نکالی ہے تو نماز لوٹانا واجب ہے اگر اتفاقًا نکل گئی تو بنا جائز(یعنی بقیہ ادا کرنا)اور لوٹانا مستحب،بعض نے فرمایا اگر بنا میں جماعت ملتی ہو اور لوٹانے میں نہ ملتی ہو تو بنا مستحب ہے۔بنا کی مرفوع حدیثیں ابن ماجہ،دارقطنی میں مذکور ہیں اور حضرت ابوبکر صدیق و عمرفاروق،علی مرتضٰی،سلمان فارسی وغیرھم صحابہ سے ثابت ہے لہذا یہ حدیث بنا کی روایتوں کے خلاف نہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1006