Main Icon

باب :نماز میں کون سے کام ناجائز اور کون سے کام مباح(جائز) ہیں - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1008

نماز کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ :«إِذَا أَحْدَثَ أَحَدُكُمْ وَقَدْ جَلَسَ فِي آخِرِ صَلَاتِهٖ قَبْلَ أَنْ يُسَلِّمَ فَقَدْ جَازَتْ صَلَاتُهُ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هٰذَا حَدِيثٌ إِسْنَادُهٗ لَيْسَ بِالْقَوِيِّ وَقَدِ اضْطَرَبُوا فِي إِسْنَادِهٖ

وعن عبد الله بن عمرو قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم :«إذا أحدث أحدكم وقد جلس في آخر صلاته قبل أن يسلم فقد جازت صلاته» . رواه الترمذي وقال: هذا حديث إسناده ليس بالقوي وقد اضطربوا في إسناده

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عبد الله ابن عمرو سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے جب تم میں سے کوئی سلام پھیرنے سے پہلے بے وضو ہوجائے حالانکہ آخر نماز بیٹھ لیا ہے تو اس کی نماز جائز ہوگئی ۱؎(ترمذی)اور فرمایا کہ اس کی اسناد قوی نہیں اس کی اسناد میں اضطراب ہے ۲؎

شرح حدیث

۱∞؎یعنی آخری قعدہ میں بقدرالتحیاتبیٹھ چکا تھا کہ اس کا وضو جاتا رہا تو اس کا فرض ادا ہوگیا اگر عمدًا وضو توڑا ہے تو امام اعظم کے نزدیک بھی ادا ہوگیا کیونکہ ارادۃً نماز سے نکلنا پالیا گیا اور اگر اتفاقًا بلاقصد وضو ٹوٹ گیا تو صاحبین کے ہاں نماز ہوگئی کیونکہ ان کے ہاں اراداۃً نماز سے نکلنا فرض نہیں۔یہ حدیث امام صاحب کی قوی دلیل ہے کہ آخریالتحیاتمیں بیٹھنا فرض ہے نہ کہ پڑھنا اور سلام بھی فرض نہیں امام شافعی کے ہاں سلام فرض ہے۔
۲
؎حدیث کا اضطراب یہ ہے کہ مختلف اور متفاوت طریقوں سے روایت ہو کبھی اسناد میں اضطراب ہوتا ہے،کبھی متن میں اضطراب ضعف حدیث کی علامت ہے مگر طحاوی نے یہ حدیث بہت اسنادوں سے نقل کی اور تعدد اسناد ضعیف کو حسن بنادیتی ہے،حسن سے احکام ثابت ہوسکتے ہیں،نیز ہوسکتا ہے کہ یہ حدیث امام ترمذی کو ضعیف یا مضطرب ہوکر ملی۔امام ابوحنیفہ کے زمانہ میں صحیح تھی بعد کاضعف اگلوں کومضر نہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1008