Main Icon

باب :نماز میں کون سے کام ناجائز اور کون سے کام مباح(جائز) ہیں - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1012

نماز کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ: قَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ یُصَلِّیْ فَسَمِعْنَاهُ يَقُولُ: «أَعُوذُ بِاللهِ مِنْكَ» ثُمَّ قَالَ: «أَلْعَنُكَ بِلَعْنَةِ اللهِ » ثَلَاثًا وَبَسَطَ يَدَهٗ كَأَنَّهٗ يَتَنَاوَلُ شَيْئًا فَلَمَّا فَرَغَ مِنَ الصَّلَاةِ قُلْنَا يَا رَسُولَ اللهِ قَدْ سَمِعْنَاكَ تَقُولُ فِي الصَّلَاةِ شَيْئًا لَمْ نَسْمَعْكَ تَقُولُهٗ قَبْلَ ذٰلِكَ وَ رَأَيْنَاكَ بَسَطْتَ يَدَكَ قَالَ: إِنَّ عَدُوَّ اللهِ إِبْلِيسَ جَاءَ بِشِهَابٍ مِنْ نَارٍ لِيَجْعَلَهٗ فِي وَجْهِي فَقُلْتُ أَعُوذُ بِاللهِ مِنْكَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ. ثُمَّ قُلْتُ: أَلْعَنُكَ بِلَعْنَةِ اللهِ التَّامَّةِ فَلَمْ يَسْتَأْخِرْ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ثُمَّ أَرَدْتُ اَن أَخْذَهٗ وَاللهِ لَوْلَا دَعْوَةُ أَخِينَا سُلَيْمَانَ لَأَصْبَحَ مُوثَقًا يَلْعَبُ بِهٖ وِلْدَانُ أَهْلِ الْمَدِينَةِ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ

وعن أبي الدرداء قال: قام رسول الله صلى الله عليه وسلم یصلی فسمعناه يقول: «أعوذ بالله منك» ثم قال: «ألعنك بلعنة الله » ثلاثا وبسط يده كأنه يتناول شيئا فلما فرغ من الصلاة قلنا يا رسول الله قد سمعناك تقول في الصلاة شيئا لم نسمعك تقوله قبل ذلك و رأيناك بسطت يدك قال: إن عدو الله إبليس جاء بشهاب من نار ليجعله في وجهي فقلت أعوذ بالله منك ثلاث مرات. ثم قلت: ألعنك بلعنة الله التامة فلم يستأخر ثلاث مرات ثم أردت ان أخذه والله لولا دعوة أخينا سليمان لأصبح موثقا يلعب به ولدان أهل المدينة. رواه مسلم

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابودرداء سے فرماتے ہیں کہ نبی صلی الله علیہ وسلم نماز پڑھنے کھڑے ہوئے تو ہم نے آپ کو یہ کہتے سنا کہ میں تجھ سے الله کی پناہ مانگتا ہوں پھر فرمایا میں تجھ پر الله کی لعنت کرتا ہوں تین بار اور اپنا ہاتھ بڑھایا گویا کچھ پکڑ رہے ہیں ۱؎جب نماز سے فارغ ہوئے تو ہم نے کہا یارسول الله ہم نے آپ کو نماز میں یہ کہتے سنا جو اس سے پہلے آپ کو کہتے نہ سنا تھا اور ہم نے آپ کو ہاتھ بڑھاتے دیکھا ۲؎فرمایا کہ الله کا دشمن ابلیس آگ کا شعلہ لایا تھا تاکہ اسے میرے منہ میں کرے ۳؎میں نے تین بار کہا کہ میں تجھ سے الله کی پناہ مانگتا ہوں پھر میں نے کہا میں تجھ پر الله کی پوری لعنت کرتا ہوں وہ تین بار میں نہ ہٹا۴؎پھر میں نے اسے پکڑنا چاہا خدا کی قسم اگر ہمارے بھائی سلیمان کی دعا نہ ہوتی تو وہ بندھا ہوا سویرا کرتا جس سے مدینہ والوں کے بچے کھیلتے ۵؎(مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎یہ سارا واقعہ اس وقت کا ہے جب نماز میں کلام جائز تھا ورنہ اب اگر نمازی کسی کو خطاب کرکے دعا یا بددعا دے تو نماز جاتی رہے گی اور اگر کلام کی حرمت کے بعد کاہے تو حضور صلی الله علیہ وسلم کی خصوصیات میں سے ہے،لہذا یہ حدیث گذشتہ حدیث کی خلاف نہیں کہ نماز میں لوگوں سے کلام جائز نہیں۔
۲
؎اس سے معلوم ہوا کہ صحابہ کرام بحالت نماز بجائے سجدہ گاہ کے حضور صلی الله علیہ وسلم کو دیکھتے تھے جیسے حاجی حرم کی نماز میں کعبے کو دیکھتے ہوئے ورنہ سجدہ گاہ کو دیکھتے ہوئے امام کی حرکت کا پتہ نہیں لگ سکتا۔
۳
؎یہ واقعہ گزشتہ واقعہ کے علاوہ ہے وہاں ایک خبیث جن کھل کر آگیا تھا یہاں خود ابلیس آگیا تھا۔خیال رہے کہ ابلیس کا انبیا ئے کرام کی بارگاہ میں اس طرح پہنچ جانا ایسا ہی ہے جیسے بادشاہ کے جسم پر مکھی،مچھر کا بیٹھ جانا اس سے نہ تو یہ لازم آتا ہے کہ ابلیس کی طاقت حضور علیہ السلام سے زیادہ ہے اور نہ یہ کہ حضور علیہ السلام معصوم نہ ہوں۔
۴
؎اپنی بے حیائی اور ضد سے نہ کہ طاقت اور قوت سے جیسے بعض دفعہ مکھیاں اڑانے سے نہیں اڑتی۔
۵
؎اس کی شرح و فوائد بھی کچھ پہلے بیان ہوچکے۔یہاں معلوم ہوا کہ حضور علیہ السلام کو رب نے طاقت دی ہے جب چاہیں شیطان کو پکڑ کرباندھ دیں لہذا گزشتہ حدیث میں جو تھااَمْکَنَنِیَ اللهاس کے معنی یہ نہیں تھے کہ ہم پہلے بے قابو تھے اب قابو دیا بلکہ حضور صلی الله علیہ وسلم کو دائمی قابو و اختیار دیا گیاہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1012