Main Icon

باب :نماز میں کون سے کام ناجائز اور کون سے کام مباح(جائز) ہیں - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 995

نماز کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَا يَزَالُ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ مُقْبِلًا عَلَی العَبْدِ وَهُوَ فِي صَلَاتِهٖ مَا لَمْ يَلْتَفِتْ فَإِذَا الْتَفَتَ انْصَرَفَ عَنْهُ. رَوَاهُ أَحْمدُ وَأَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ وَالدَارمِيْ

وعن أبي ذر قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : لا يزال الله عز وجل مقبلا علی العبد وهو في صلاته ما لم يلتفت فإذا التفت انصرف عنه. رواه أحمد وأبو داود والنسائي والدارمي

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابو ذر سے فرماتے ہیں ،فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے الله تعالٰی بندے پر متوجہ رہتا ہے جب کہ وہ نماز میں ہو جب تک ادھر ادھر نہ دیکھے جب ادھر ادھر دیکھتا ہے تو رب اس سے اعراض کرتا ہے ۱؎(احمد،ابوداؤد، نسائی،دارمی)

شرح حدیث

۱∞؎یہاںالتفتسے مراد منہ موڑ کر ادھر ادھر دیکھنا ہے فقط نگاہوں سے التفات ناجائز نہیں۔اگر چہ مستحب یہ ہے کہ قیام میں نگاہ سجدہ گاہ میں رہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 995