Main Icon

باب :نماز میں کون سے کام ناجائز اور کون سے کام مباح(جائز) ہیں - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1009

نماز کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ إِلَى الصَّلَاةِ فَلَمَّا كَبَّرَ انْصَرَفَ وَأَوْمَی اليْهِمْ أَنْ كَمَا كُنْتُمْ. ثُمَّ خَرَجَ فَاغْتَسَلَ ثُمَّ جَاءَ وَرَأَسُهٗ يَقْطُرُ فَصَلّٰى بِهِمْ . فَلَمَّا صَلّٰى قَالَ: «إِنِّي كُنْتُ جُنُبًا فَنَسَيْتُ أَنْ أَغْتَسِل» . رَوَاهُ أَحْمدُ

عن أبي هريرة أن النبي صلى الله عليه وسلم خرج إلى الصلاة فلما كبر انصرف وأومی اليهم أن كما كنتم. ثم خرج فاغتسل ثم جاء ورأسه يقطر فصلى بهم . فلما صلى قال: «إني كنت جنبا فنسيت أن أغتسل» . رواه أحمد

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے کہ نبی صلی الله علیہ وسلم نمازکو تشریف لائے جب تکبیر کہی ۱؎تو واپس ہوئے اور لوگوں کو اشارہ فرمایا کہ تم ایسے ہی رہو ۲؎پھر تشریف لے گئے تو غسل کر لیا پھرتشریف لائے حالانکہ سر شریف سے قطرے ٹپک رہے تھے۳؎پھر انہیں نماز پڑھائی جب نماز پڑھ لی تو فرمایا ہم جنبی تھے غسل کرنا بھول گئے ۴؎(احمد)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی صرف حضور علیہ السلام نے تکبیرتحریمہ کہی تھی صحابہ نہ کہہ پائے تھے کیونکہ یہاں صحابہ کی تکبیر کا ذکر نہیں۔یا ابھی حضور صلی الله علیہ وسلم نے بھی تکبیر نہ کہی تھی بلکہ تکبیر کا ارادہ ہی کیا تھا ارادہ تکبیر کو تکبیر کہہ دیا گیا جیسے"اِذَا قُمْتُمْ اِلَی الصَّلٰوۃِ"۔چنانچہ مسلم شریف میں ہے کہ حضور صلی الله علیہ وسلم مصلے پر کھڑے ہوئے تھے تکبیر سے پہلے ہی واپس ہوگئے لہذا یہ حدیث نہ حنفیوں کے خلاف ہے نہ شافعی حضرات کی مؤید جیسا کہ ہم ابھی عرض کریں گے۔
۲
؎یعنی صف بستہ کھڑے رہو نہ مسجد سے جاؤ نہ صفیں توڑو میں ابھی آتا ہوں۔
۳
؎لباس شریف پر۔اس سے معلوم ہوا کہ ماء مستعمل نہیں ہوتا لہذا یہ حدیث صاحبین کی دلیل ہے۔
۴
؎خیال رہے کہ امام شافعی کے نزدیک امام کی نماز فاسد ہونے سے مقتدی کی نماز فاسد نہیں ہوتی،ان کی دلیل یہ حدیث ہے کیونکہ حضور علیہ السلام نے صحابہ کو تکبیرتحریمہ لوٹانے کا حکم نہ دیا لیکن ہم ابھی عرض کرچکے کہ صحابہ نے تکبیر تحریمہ کہی ہی نہ تھی بلکہ خود سرکار نے بھی تکبیر کا ارادہ ہی کیا تھا جیسا کہ مسلم میں ہے لہذا ان کا یہ استدلال صحیح نہیں۔ہم اس کی بحث"باب الامامۃ"میں"اَلْاِمَامُ ضَامِنٌ"کی شرح میں کرچکے ہیں۔خیال رہے کہ حضور صلی الله علیہ وسلم کا یہاں بھول جانا اور جنابت یاد نہ رہنا رب کی طرف سے تھا تاکہ امت کو اس کے مسائل معلوم ہوجائیں حضور علیہ السلام کی بے خبری کی وجہ سے نہیں حضور انور صلی الله علیہ وسلم کی امت کے غلام اولیاء الله دوسروں کی جنابت و طہارت کو جانتے ہیں۔اس جگہ مرقاۃ نے ایک عجیب قصہ بیان کیا کہ امامجُوَینِینے ایک دن درس میں کہا صوفی لوگ قوالیوں میں کھانے اور ناچنے جاتے ہیں،ایک بزرگ وہاں سے گزرے تو بولے اے امام جوینی اس پر تمہارا کیا فتویٰ ہے جو جنابت میں فجر پڑھائے اور مسجد میں درس کی حالت میں لوگوں کی غیبت کرے، تب امام جوینی کو یاد آیا کہ میں جنبی تھا اور ایسے ہی نماز پڑھا دی آپ نے توبہ کی اور صوفیاء کے معتقد ہوگئے لہذا یہ حدیث حضور صلی الله علیہ وسلم کے علم کی نفی نہیں کرتی بے علمی اور ہے اور بھول جانا کچھ اور ہماری بھول چوک نفسانی شیطانی ہوتی ہے،انبیاء کی بھول ایمانی و رحمانی،سارے انسانی عالم کا ظہور آدم علیہ السلام کی ایک بھول کا صدقہ ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1009