Main Icon

باب :نماز میں کون سے کام ناجائز اور کون سے کام مباح(جائز) ہیں - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 994

نماز کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : «إِذَا تَوَضَّأَ أَحَدُكُمْ فَأَحْسَنَ وُضُوءَهٗ ثُمَّ خَرَجَ عَامِدًا إِلَى المَسْجِدِ فَلَا يُشَبِّكَنَّ بَيْنَ أَصَابِعِهٖ فَإِنَّهٗ فِي الصَّلَاةِ» . رَوَاهُ أَحْمدُ وَأَبُو دَاوُدَ وَالتِّرْمِذِيْ وَالنَّسَائِيّ والدَارمِيْ

وعن كعب بن عجرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : «إذا توضأ أحدكم فأحسن وضوءه ثم خرج عامدا إلى المسجد فلا يشبكن بين أصابعه فإنه في الصلاة» . رواه أحمد وأبو داود والترمذي والنسائي والدارمي

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت کعب ابن عجرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ تم میں سے کوئی جب وضو کرے تو اچھا کرے پھر مسجد کے ارادے سے نکلے ۱؎تو انگلیوں میں انگلیاں نہ ڈالے کیونکہ وہ نماز میں ہے ۲؎(احمد،ترمذی، ابوداؤد،نسائی،دارمی)

شرح حدیث

۱∞؎سنت یہی ہے کہ وضو گھر سے کرکے مسجد کو جائے،بہتر یہ ہے کہ درود شریف پڑھتا ہوا جائے۔
۲
؎یعنی یہ شخص حکمًا نماز میں ہے اسی لیے اس حالت میں نماز کا ثواب پارہا ہے اور نماز میں تو یہ کام منع ہے کیونکہ یہ ایک قسم کا کھیل اور عبث ہے اس لیے اب بھی یہ نہ کرے یہ ایسا ہے جیسے حضور صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ اعتکاف نماز ہے لہذا باوضو کرو اور اس میں دنیوی کام نہ کرو لہذا اس حدیث سے یہ لازم نہیں آتا کہ نماز کے سارے ممنوعات اس وقت منع ہوجائیں خارج نماز کبھی کبھی یہ کام کرلینا جائز ہمیشہ کرنا بہتر نہیں نبی صلی الله علیہ وسلم نے بھی کبھی کوئی بات سمجھانے کے لیئے انگلیوں میں تشبیک فرمائی ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 994