Main Icon

باب :نماز میں کون سے کام ناجائز اور کون سے کام مباح(جائز) ہیں - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 997

نماز کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ لِيْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : «يَا بُنَيَّ إِيَّاكَ وَالِالْتِفَاتَ فِي الصَّلَاةِ فَإِنَّ الِالْتِفَاتَ فِي الصَّلَاةِ هَلَكَةٌ. فَإِنْ كَانَ لَابُدَّ فَفِي التَّطَوُّع لَا فِي الْفَرِیْضَةِ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ

وعنه قال: قال لي رسول الله صلى الله عليه وسلم : «يا بني إياك والالتفات في الصلاة فإن الالتفات في الصلاة هلكة. فإن كان لابد ففي التطوع لا في الفریضة» . رواه الترمذي

حدیث ترجمہ

روایت ہے انہی سے فرماتے ہیں کہ مجھ سے رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا اے میرے بچے نماز میں التفات سے بچو کیونکہ نماز میں التفات ہلاکت ہے اگر ضروری ہو تو نفل میں ہو نہ کہ فرض میں ۱؎(ترمذی)

شرح حدیث

۱∞؎کیونکہ نفل میں گنجائش ہے فرض میں تنگی،دیکھو نفل میں قیام پر قادر ہونے کے باوجود بیٹھ کر پڑھنا جائز ہے۔حدیث کا مطلب یہ ہے کہ فرض میں التفات زیادہ مکروہ ہے نفل میں کم،یہاں التفات سے وہی مراد ہوگا جو پہلے عرض کیا گیا یعنی منہ پھیر کر دیکھنا،ہلاکت سے مراد ثواب گھٹ جانا ہے۔قرآن شریف میں یہ لفظ تین معنے میں آیا ہے:(۱)اپنی چیز غیر کے پاس پہنچ جانا (۲)شے کا فنا ہوجانا(۳)موت۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 997